سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 66
66 سبیل الرشاد جلد دوم ہیں۔وہ کثرت سے پڑھے جائیں۔میں سمجھتا ہوں کہ ہر احمدی کے کان میں وہ باتیں پڑنی چاہئیں کہ جن کی اشاعت مرکز سے ہوتی ہے۔مرکزی اخبار اور رسالوں میں ایک تو کچھ اسپلیں کی جاتی ہیں مثلاً بتایا جاتا ہے کہ بعض جماعتیں اپنے وعدوں کے مطابق اور اپنی ذمہ داریوں کے مطابق چندے نہیں دے رہیں یا بعض جگہوں پر مساجد نہیں ہیں وہاں مساجد ہونی چاہئیں یا بعض جگہ تربیت کے کام میں سستی ہے۔وہاں اس طرف توجہ ہونی چاہئے۔اگر جماعت کو یہ پتہ ہی نہ لگے کہ کس جگہ کس قسم کا نقص یا خامی واقع ہوگئی ہے تو وہ اُسے دور کرنے کی طرف متوجہ کیسے ہو سکتے ہیں۔اسی طرح اگر جماعت اپنے اخبار اور رسالوں کو نہ پڑھے تو انہیں کیسے علم ہو کہ اللہ تعالیٰ کس رنگ میں اور کس کثرت کے ساتھ اپنی رحمتیں جماعت احمد یہ پر نازل کر رہا ہے اور رحمتوں کی اس بارش کے نتیجہ میں ہم پہ جو پہلی اور عظیم ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی حمد کرنا اور اس کا شکر بجالانا ہے۔لیکن اگر احباب جماعت کو ان رحمتوں کا علم ہی نہ ہو۔تو حمد اور شکر بجالانے کی ان پر جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ کیسے بجالائیں گے۔میرے اس دورہ کے نتیجہ میں جو پچھلے دنوں میں نے یورپ کا کیا تھا۔جماعت احمدیہ نے خدا تعالیٰ کے بے شمار فضلوں اور رحمتوں کو دیکھا یعنی جنہوں نے دیکھا جنہوں نے اخبار پڑھے، ہمارے اخبار میں بھی ان تمام رحمتوں کا ذکر اس رنگ میں نہیں آسکا جس رنگ میں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہم پر ہوا۔ابھی پرسوں ہی امام کمال یوسف نے مجھے ۱۶۴ تراشے اخباروں کے بھیجے ہیں۔صرف ڈنمارک کی ان اخباروں کے تراشے ہیں جن میں مسجد نصرت جہاں کے افتتاح کی خبریں شائع ہوئیں۔یا انہوں نے ایڈیٹوریل لکھے یا نوٹ دیئے یا مضامین لکھے اس سلسلہ میں۔اور انہوں نے لکھا ہے کہ یہ تراشے صرف یہاں کے اخباروں کے ہیں۔وہ کہتے ہیں میں نے چرچ کی ہر بلیٹن دیکھی تو نہیں۔لیکن میرا یہ اندازہ ہے کہ چرچ کی ہر بلیٹن نے ہماری مسجد کے افتتاح کا ذکر کیا ہے۔اس پر نوٹ لکھے ہیں۔اب یہ ساری باتیں ہمارے اخباروں میں نہیں آئیں۔لیکن جتنی باتیں ہمارے اخبار میں آئی ہیں۔اس کے نتیجہ میں بھی ہمارے دل میں اپنے رب اور پیدا کرنے والے کے لئے حمد اور شکر کے جذبات پیدا ہونے چاہئیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم ساری عمران رحمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجالاتے رہیں تب بھی ہم حمد اور شکر کا حق ادا نہیں کر سکتے۔بعض نادان یہ خیال کر سکتے ہیں کہ جو رحمتیں اور جو فضل اور جو برکات سماوی اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں نازل کیں وہ کسی ایک شخص پر تھیں۔یہ خیال بالکل غلط ہے۔اللہ تعالیٰ کی وہ ساری رحمتیں جماعت احمدیہ پر تھیں۔ساری جماعت ایک جان ہو کر اور ایک وجود بن کر خدا تعالیٰ کے حضور دعاؤں میں