سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 47 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 47

47 سبیل الرشاد جلد دوم جھوٹے مقد مے کریں گے۔جب تیرے پاس ایک پیسہ بھی نہ ہو گا عملاً لاکھوں روپے جمع کریں گے۔نا کام کرنے کی ہر تد بیر اور ہر منصو بہ سوچیں گے اور جب ان تمام تدابیر اور منصوبوں کا نتیجہ نکل سکے گا تو دنیا یہ دیکھے گی کہ سب طاقتوں کا سر چشمہ اور منبع ہمارے رب کی ذات ہے ، تو نبوت کے بعد الہی سلسلہ میں صرف ایک وجود ایسا ہوتا ہے اپنی ساری عاجزی اور کم مائیگی اور نیستی کے باوجود جس کو وہ حقیقتاً اپنے دل میں محسوس کر رہا ہوتا ہے کہ جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کی شہادت ہوتی ہے کہ جو جس منصب پر پہ فائز ہے وہ میری طرف سے عطا کردہ ہے۔اس کے مقابلہ میں بتاؤ کون ہے جو کہے کہ خدا تعالیٰ کی یہ فعلی شہادت ثابت کرتی ہے کہ جس منصب کا میں زبانی دعوی کر رہا ہوں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔کوئی ثابت نہیں۔نہ قرآن کریم سے اس کا ثبوت ملے نہ حدیث سے اس کا ثبوت ملے۔قرآن کریم سے نصیحت حاصل کرو اس وقت اصل مضمون میرا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے کہ اگر تم قرآن کریم سے نصیحت حاصل کرنا چاہتے ہو اور عزت کے ان سامانوں سے فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہو جو اس نے تمہارے لئے پیدا کئے ہیں تو فکر و تدبر کے بعد اس شخص کی آواز پر کان دھر و جو تم سے زیادہ جانتا ہے۔تم زیادہ نہیں جانتے۔ہم میں سے ہر شخص یہ نہیں کہ سکتا کہ صرف ایک ہی مجھ سے زیادہ جانتا ہے لیکن تم میں سے کسی کے متعلق خدا کی یہ فعلی شہادت نہیں ہے کہ وہ اس منصب پر کھڑا ہے لیکن یہ کہتا بھی ہے۔اس واسطے آپ کے لئے ضروری ہے کہ اس کی باتوں پر کان دھریں۔ورنہ قرآن کہتا ہے کہ قرآن سے تم فائدہ نہیں حاصل کر سکتے۔اور تیسری چیز یہ بتائی وَ هُوَ شَهِيدٌ که نه فکر و تدبر ، نہ تعلیم نہ علم سیکھنا تمہیں فائدہ دے گا۔جب تک عمل سے تم یہ گواہی نہ دو گے کہ جو تم نے سیکھا اور اسے سچ سمجھ کے سیکھا۔اور اس کو اس لئے سیکھا کہ تم اس پر عمل کرو گے۔پس محض سننا محض غور کرنا محض فکر کے بعد کسی نتیجہ پر پہنچنا کافی نہیں جب تک انسان یہ عزم نہ کر لے اور اپنی زندگی میں اس عزم کو پورا کرے کہ ہم نے روحانی دنیا میں کرنے کے لئے جو کچھ سیکھا ہے اس کے مطابق ہم کرتے بھی ہیں۔اگر ہم نہیں کرتے تو غور کرنا بھی اور سننا بھی بے معنی ہے۔بالکل بے معنی اور وقت کا ضیاع ہے۔قرآن کریم میں ہر قسم کی خیر و برکت ، عزت اور بزرگی کے سامان ہیں تو قرآن کریم میں ہر قسم کی خیر اور برکت ، ساری نصائح، ہر قسم کی عزت اور بزرگی اور شرف کے سامان ہیں۔لیکن ملتے انہیں ہیں جو پہلے خود غور کرتے ہیں پھر وہ سیکھتے ہیں دوسروں سے۔اور پھر اس