سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 539 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 539

69 (ال عمران : 192 ) کہ ہر چیز جو اللہ تعالیٰ کے دست قدرت سے نکلی وہ باطل نہیں ہے۔کسی مقصد کے بغیر نہیں۔ایک مقصد ہے ہر پیدائش کا اور جیسا کہ دوسری آیات سے اور قرآن کریم کے دوسرے مقامات سے ہمیں پتا لگتا ہے۔انسان کی پیدائش اس لئے ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا بندہ بنے اور خدا تعالیٰ کا بندہ بننے کے لئے اسے جس چیز کی بھی ضرورت اپنی انفرادی زندگی سے باہر تھی وہ سب ضرورت اللہ تعالیٰ نے مادی چیزوں کی پیدائش اور غیر مادی چیزوں کی پیدائش کے ساتھ پوری کر دی تو ربَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلا كاجب انسان اعلان کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ ہم اس اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں جس نے ہمیں اپنا عبد بننے کے لئے پیدا کیا۔اس لئے پیدا کیا کہ ہماری زندگی میں اس کے رنگ کی، اس کے نور کی جھلک ہو اور ہماری صفات پر بھی اس کی صفات کا رنگ چڑھے اور اس عظیم مجاہدہ کے لئے جس چیز کی بھی ضرورت تھی انسان کو وہ اس نے پیدا کر دی اور اس نے کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کی جس سے فائدہ اٹھا کر ہم اپنی زندگی کے اس مقصد کے حصول میں کام نہ لیں۔تو ایمان باللہ جو ہے یہ انسان اور خدا کے تعلق میں ایک بنیادی حقیقت ہے۔خدا تعالیٰ کی معرفت کا حاصل کرنا اور یہ جاننا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا عبد بنانے کے لئے ہمیں پیدا کیا اور یہ نہیں کہ اس نے ہمیں یہ تو کہہ دیا کہ میرے عبد بنو میری صفات کا رنگ اپنی خصلتوں پر، اپنے اخلاق پر چڑھاؤ لیکن ایسا کرنے کے سامان پیدا نہیں کئے۔یہ نہیں بلکہ جب اس نے یہ کہا اے انسان! میرا بندہ بن تو ساتھ ہی اس نے اپنا بندہ بننے کے سارے ہی سامان جو ہیں وہ اس کے لئے پیدا کر دیئے۔یہ اصولی طور پر ہر چیز نوع انسانی کی خدمت پر لگی ہوئی ہے اور انفرادی طور پر فرد فرد میں جو فرق ہے ہر فرد نے اپنے اس مقصد کے حصول کے لئے زبانِ حال سے جس چیز کا بھی مطالبہ کیا کہ اے خدا! تیری طرف بڑھنے کے لئے مجھے یہ چاہئے اس نے اس کائنات میں اس چیز کو پایا جو پہلے سے موجود تھی اور وہ خدا پر یہ گلہ نہیں کر سکتا کہ مجھے بندہ بننے کے لئے تو کہا گیا ہے لیکن بندہ بننے کے سامان پیدا نہیں کئے گئے۔یہ ایمان باللہ ہے پہلی چیز جو ضروری ہے انسان کے لئے اگر وہ اللہ تعالیٰ کا بندہ بنا چاہتا ہے۔ایمان باللہ سے اور مَا خَلَقْتَ هَذا بَاطِلاًے ہمارا دوسرا قدم یہ اٹھتا ہے۔ہماری فطرت کی آواز ہماری عقل کا نتیجہ کہ جب کوئی چیز بھی باطل نہیں۔بے فائدہ اور بے مقصد نہیں تو انسانی زندگی کیسے بے مقصد ہو سکتی ہے جس کے لئے ہر چیز کو پیدا کیا گیا ہے۔اس واسطے ہماری زندگی اس دنیا میں ختم نہیں ہوتی۔وَاليَومِ الْآخِر ایمان بالآ خرت ضروری ہو جاتا ہے یعنی حقیقی معرفت باری، ایمان بالآخرت پر منتج ہوتی ہے یعنی دوسرا ایمان اس کے پیچھے آتا ہے اور اس سے انسانی عقل انکار نہیں کر سکتی جیسا کہ اس کی فطرت اس سے انکار نہیں کر سکتی۔یہ جو دوسرا پہلو ہے وَاليَومِ الآخر حشر کا دن زندہ ہونا اور اس دن خدا سے اس کی بے شمار نعماء کو