سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 505
35 کی ہیں۔مجھے یہ سن کر خوشی تو ہوئی کہ اس طرح جماعت کا اس پر اثر ہوالیکن مجھے انتہائی دکھ ہوا کہ وہ نسل جس کے اوپر قوم کی ساری ذمہ داری پڑنے والی ہے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں عقل دی ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں فراست دی ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں جذبہ دیا ہے وہ آگے نکلنے والی نسل ہے میں یہ نہیں کہتا کہ ان سے کبھی کسی نے شرافت سے بات کی ہے یا نہیں میں یہ ضرور کہوں گا کہ ان کے دل میں یہ احساس ہے کہ ہم سے کسی نے کبھی شرافت سے بات نہیں کی اور اصل تو احساس ہوتا ہے پس جہاں مجھے تھوڑی بہت خوشی ہوئی وہاں مجھے بڑی تکلیف بھی ہوئی پس یہ پیارے بچے اب آرہے ہیں اور آئیں گے ان کی تربیت انصار اللہ کا کام ہے یہ کام میں نے خدام الاحمدیہ کے سپرد نہیں کیا اس طرف توجہ دینی چاہئے دفتر سوم کے چندے کی فی کس اوسط 13 سے 15 تک پہنچ گئی ہے یہ خوشکن ہے لیکن 20 تک ان کو پہنچنا چاہئے اور اس سال پہنچنا چاہئے انصار اللہ ہر جگہ جائزہ لیں اور اپنی تھوڑی سی مستیاں ترک کر دیں تو زیادہ اچھا ہے حالات بڑی تیزی سے بدل رہے ہیں" خطبات ناصر جلد سوم صفحہ 377-384) تربیت کی ذمہ داری انصار کی ہے حضور نے خطبہ جمعہ 23 اکتوبر 1970 ء کو فرمایا۔دفتر سوم کو جس میں روز بروز ترقی ہوتی چلی جائے گی کیونکہ نو جوانوں کو اس طرف بڑی توجہ پیدا ہو رہی ہے۔وہ آئیں گے تو دفتر سوم میں داخل ہو جائیں گے دفتر سوم میں جب داخل ہونگے غیر تربیت یافتہ ہوں گے آج احمدی ہوئے کل کو اس نے تحریک جدید کا چندہ لکھوا دیا اس پر ذمہ داری پڑ گئی جو ہر احمدی نوجوان پر پڑتی ہے اس کو اپنا نفس مارنا پڑے گا اس کو گالیاں سن کر بجائے چیڑ لگانے کے دعا دینی پڑیگی اسے بڑے زبر دست ضبط اور نفس پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔دوسروں کو تو بڑا آرام ہے ،غصہ آیا چپیڑ لگا دی۔ایک چپیڑ کھالی ایک چیڑ لگا دی ، پر ایک احمدی کی نہ یہ تربیت ہے اور نہ اسے یہ زیب دیتا ہے اسے تو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ چیڑ کھاؤ اور دعا دو اور دل جیتو ہم نے لوگوں کے سر پھاڑ کر ترقی نہیں کرنی بلکہ غلبہ اسلام کی یہ ہم لوگوں کے دل جیت کر سر ہوگی۔جس طرح یورپ سے میں نے جا کر کہا تھا کہ تمہارے دل جیتیں گے اور اسلام کو پھیلائیں گے اسی طرح میں یہاں بھی کہتا ہوں۔کسی سے ہماری دشمنی اور لڑائی نہیں ہم دل جیتیں گے اور احمدیت یعنی حقیقی اسلام کو پھیلائیں گے۔اس لئے جب تم چپیڑ کھاؤ گے تو چپیڑ کا جواب چپیڑ سے نہیں دینا۔اسلئے بڑی زبردست تربیت کی ضرورت ہے نفس کی مثال گھوڑے کی ہے نفس یا تو منہ زور گھوڑا بن سکتا ہے یا