سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 493
23 $ 1969 قرآن کریم سیکھنا اور سکھانا انصار اللہ کی ذمہ داری ہے حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ نے 14اپریل 1969 کے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔" انصار اللہ کو آج میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ اپنے طوعی اور رضا کارانہ چندوں کی ادائیگی میں ست ہو چکے ہیں اللہ تعالیٰ آپ کو چست ہو جانے کی توفیق عطا کرے) لیکن مجھے اس کی اتنی فکر نہیں جتنی اس بات کی فکر ہے کہ آپ ان ذمہ داریوں کو ادا کریں جو تعلیم القرآن کے سلسلہ میں آپ پر عائد ہوتی ہیں۔قرآن کریم کی تعلیم کے سلسلہ میں آپ پر دو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ایک ذمہ داری تو خود قرآن کریم سیکھنے کی ہے اور ایک ذمہ داری ان لوگوں ( مردوں اور عورتوں) کو قرآن کریم سکھانے کی آپ پر عائد ہوتی ہے کہ جن کے آپ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق رائی بنائے گئے ہیں۔آپ ان دونوں ذمہ داریوں کو سمجھیں اور جلد تر ان کی طرف متوجہ ہوں ہر رکن انصار اللہ کا یہ فرض ہے کہ وہ اس بات کی ذمہ داری اُٹھائے کہ اس کے گھر میں اس کی بیوی اور بچے یا اور ایسے احمدی کہ جن کا خدا کی نگاہ میں وہ راعی ہے قرآن کریم پڑھتے ہیں اور قرآن کریم کے سیکھنے کا وہ حق ادا کرتے ہیں جو حق ادا ہونا چاہئے اور انصار اللہ کی تنظیم کا یہ فرض ہے کہ وہ انصار اللہ مرکزیہ کو اس بات کی اطلاع دے اور ہر مہینہ اطلاع دیتی رہے کہ انصار اللہ نے اپنی ذمہ داری کو کس حد تک نبھایا ہے اور اس کے کیا نتائج نکلے ہیں" (خطبات ناصر جلد دوم صفحہ 564) انصار اللہ بحیثیت مجلس اپنے اندر ایک فعال زندگی پیدا کرے حضور نے 16 مئی 1969ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔" تیسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ زیادہ مستعدی سے اپنے پروگراموں کی طرف متوجہ ہوں اور بحیثیت مجلس اپنے اندر ایک فعال زندگی پیدا کریں۔ہر دو مجالس کا ایک حصہ بڑا ہی اچھا کام کر رہا ہے اور قابلِ رشک ہے۔اگر خدام الاحمدیہ ہیں تو وہ انصار اللہ کے لئے قابل رشک ہیں اور انصار ہیں تو جماعت کے لئے قابل رشک ہیں۔خدا کے لئے فدا ہونے والی اور اپنے نفسوں اور اموال کو فدا کرنے والی زندگیاں ہیں جو وہ گزار رہے ہیں لیکن بہت سے ایسے بھی ہیں جو دنیا کے غلط اصول کے