سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 435 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 435

435 سبیل الرشاد جلد دوم نہیں لگے ہوئے ، اُن کو مصیبت پڑی ہوئی ہوتی ہے۔تقSouth بدلتا تھا اپنا کمرہ گرمی سردی میں۔اور وہ جو کھڑ کی ہے وہاں سے ٹھنڈی ہوائیں آتی ہیں۔اس طرف سورج زیادہ نہیں۔سایہ ہے، نسبتاً ٹھنڈی ہوا ہے۔پھر کھڑ کی ایسی ہے کہ اگر آپ بیٹھ جائیں تو وہاں اتنی بڑی بڑی کرسیاں تو استعمال ہوتی ہوں گی۔لیکن وہاں بیٹھنے کے لئے قالین وغیرہ ہوتے تھے۔تو وہ اسی طرح معلوم ہوتا تھا کہ سر کے اوپر چھت ہے ہی نہیں بلکہ آسمان ہے، اتنی وسعت نظر میں پیدا ہو جاتی تھی اور اس کے بیچ میں پرانی حویلیوں کی طرح حویلی اور حویلی، الحمراء ہے۔اس کا فرش اونچا تھا۔کوئی چھ انچ ہو گا یا نو انچ۔اسی کمرے میں گائیڈ کہنے لگا یہاں بیٹھ جائیں۔تو جو صحن کا نظارہ ہے وہ بدل جائے گا۔اس کے اندرفراخی اور گھٹن کا احساس کم کرنے والی کوئی چیز بنا دی گئی ہے یعنی angle بدلنے سے سکون کا احساس آ جاتا ہے۔یہ اُن کو عقل دی تھی۔آپ سے میں اس لئے باتیں کر رہا ہوں کہ آپ میرے نزدیک بڈھے نہیں ہوئے۔جوانوں کے جوان ہیں۔ہر وقت سوچا کریں کہ کیا آپ اپنے رب سے، ان مسلمانوں کی نسبت جو قریباً نویں ہجری میں سپین میں تھے ان سے کم پیار کرنے والے ہیں آپ کے دور میں تو مہدی آگئے۔آپ اُن پر ایمان لے آئے تو آپ کے دل میں تو اُن سے زیادہ پیار ہونا چاہئے۔بہت ساری اور چیزیں شامل ہوگئیں ان کی زندگی میں۔كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ اس موقع پر طوطے اڑتے ہوئے گزرے۔آپ نے اُن کے متعلق احباب سے پوچھا۔جواب ملنے پر فرمایا اس واسطے ہر چیز میں دلچسپی لیا کریں۔اور یہ "كُل يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ - “ اگر یہ چیز نہ ہوتی کہ پرندے کی پرواز ہر پرندے سے مختلف ہے۔ایک میل دور سے جانور اُڑ رہے ہوں۔طوطا اور فاختہ تو میری آنکھ ایک سیکنڈ کے اندر پہچان جاتی ہے یہ کیا جانور ہے۔اور اللہ کی شان نظر آتی ہے۔اس طرح نہیں کہ موٹرمیں ایک لاکھ نکلیں۔ایک قالب میں سے تو ایک ہی شکل اُن کی ، پھر رنگ اُن کو مختلف کر کے MONOTONY کو توڑا گیا۔ورنہ تو آپ کے لئے یہ زندگی اجیرن ہو جاتی اگر ہر چیز ایک جیسی ہوتی ایک ہی پھول ہوتا۔اس کا ایک ہی رنگ ہوتا۔ایک ہی زمانہ میں پتے گرتے ویسے ہی پتے نکل آتے۔کوئی تنوع نہ ہوتا۔اس واسطے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔کثرت شانِ دلیلِ وحدت او کہ خدا تعالیٰ کی مخلوق میں جو کثرت اور تنوع ہمیں نظر آتا ہے۔وہ دلیل ہے اس بات کی کہ اللہ ایک ہے۔یہ بڑا گہر افلسفہ ہے گھر جا کے سوچنا۔ہاں مَالَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلَّهِ وَفَّارًا وَ قَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا۔سوره الرحمن آیت ۳۰