سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 434 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 434

434 سبیل الرشاد جلد دوم سٹڈی کرنے کے بعد اُن Pillars کو اس طرح رکھا کہ اگر زلزلے کی ایک لہر کا اینگل ایسا بن جائے کہ ایک Pillar بوجھ کو سہارنے سے انکار کر دے تو چھت نہیں گرے گی۔دوساتھ کے Pillars اس کے بوجھ تو اُٹھانے والے موجود ہیں۔عجیب چیز ہے وہ۔اور پھر یہ کہ یہاں آپ سارے لوگ سڑکوں پر تو جاتے ہیں نا۔کوئی سڑک تھوڑی سی خراب ہو جائے تو مہینوں بعض دفعہ سالوں وہ آپ کو نظر آتی رہتی ہے۔گڑھے نظر آتے رہتے ہیں۔وہ جودُ کھ دینے والی چیز سٹرک میں اِمَاطَةُ الأذى عَنِ الْطَرِيقِ ہونا چاہئے تھا فور ادُ کھ دُور ہونا چاہئے تھا وہ نظر آتی رہتی ہے۔سپین کے مسلمان بادشاہ نے کہا کہ میں ایک دن بھی کسی Pillar کوٹوٹا ہوانہیں دیکھنا چاہتا۔بہت نازک مزاج تھے نا۔خدا تعالیٰ کے نعماء سے بڑے فائدہ اُٹھانے والے اور آرام حاصل کرنے والے تھے۔انہوں نے ایک عجیب کام کیا ہے۔میں تو حیران ہو گیا۔Pillar کے نیچے ایک تو ایک چوڑی سی تھڑی بناتے ہیں۔پھر اس کے وسط میں سے Pillar اُٹھتے ہیں۔پھر اوپر جہاں وہ Arch آنی ہے وہاں بھی چوڑائی شروع ہو جاتی ہے۔جہاں او پر چوڑائی شروع ہوئی جہاں نیچے چوڑائی ختم ہوئی۔ان کے درمیان Pillar ہے۔پتھر کا گھڑا ہوا چھوٹا سا۔اور اوپر بھی اور نیچے بھی کسی Metal کی پلیٹ رکھی ہوئی ہے۔تو اگر کر یک آ جائے کسی Pillar میں یا گر جائے تو بنے بنائے ستون پڑے ہوتے ہیں۔بس وہاں سے لا کے اس کو وہاں کھڑا کر دیں گے۔یعنی آدھے گھنٹے یا گھنٹے کے اندر وہ مکمل ہو جائے گا۔یہاں تو فلش کے اندر خرابی ہو تو دو تین دن ہمارے امیر صاحب مستری کو ڈھونڈتے رہتے ہیں نا۔عجیب اُن کے دماغ تھے۔وہاں ایک جگہ ہم کھڑے ہوئے اُن کے بادشاہ سلامت کے رہنے کا جو حصہ تھا وہ شمالاً جنو با تھا۔جنوب کی طرف سورج زیادہ آتا ہے تو شمال والے حصہ میں کھڑ کی کوئی نہیں تھی۔ساری دیوار Solid تھی۔پتہ نہیں اس میں مسالہ بھی کوئی خرچ ایسا کیا ہو گا۔کہنے لگا سارا دن اس کے اوپر جو دھوپ پڑتی ہے اس کی گرمی سردیوں کے دنوں میں رات کو اس کمرے میں آتی ہے۔یہ کمرہ بادشاہ سلامت کا بیڈ روم تھا۔وہ سردیوں کا اس طرح کا تھا اور گرمیوں میں جو شمال کی طرف ہے وہاں ٹھنڈی ہوا آتی تھی۔ایک کھڑ کی اس Bed Room میں نظر آ رہی تھی۔خیر ہم دیکھ رہے تھے کہ عام کھڑ کی کی طرح ہے۔گائیڈ کہنے لگا یہ عام کھڑ کی نہیں ہے۔آپ بیٹھ جائیں اس کے پاس تو آپ دیکھیں گے تو احساس میں کیا فرق پڑ گیا آپ کے۔تو میں تو نہیں بیٹھا۔میں نے منصورہ بیگم سے کہا بیٹھیں یہاں۔وہ بیٹھیں اور میر محمود صاحب تھے اُن کو کہا۔جو بھی بیٹھا۔انہوں نے کہا کہ یہ احساس ہی نہیں رہتا کہ ہم چھت کے نیچے ہیں بلکہ آسمان کے نیچے بیٹھنے کا احساس ہوتا ہے اور بالکل کھلا ما حول محسوس ہوتا ہے۔اور اسی طرح اور چیزیں۔ہر چیز میں فائدہ والی چیز بنانا کہ گھٹن نہ پیدا ہو۔گرمی میں ویسے گھٹن ہو جاتی ہے۔جہاں بیچاروں کے کمروں کے اندر ائیر کنڈیشنر