سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 414
414 سبیل الرشاد جلد دوم ایک تہائی مسلمان ہیں ، ایک تہائی عیسائی ہیں اور ایک تہائی بت پرست ہیں۔عیسائی پادری بُت پرست لوگوں میں مشنری کام کر رہے ہیں ، انہیں عیسائی بنارہے ہیں اور مسلمانوں میں کوئی ایک بھی فرقہ نہیں ہے جو ان کا مقابلہ کر سکے ، اس واسطے اگر آپ اس صوبے کو عیسائی صوبہ بننے سے بچانا چاہتے تو فوری طور پر یہاں پانچ ہائر سیکنڈری سکول (انٹرمیڈیٹ کالج ) کھولیں کیونکہ صرف جماعت احمدیہ ہے جو عیسائی مشنریز کا مقابلہ کر سکتی ہے۔سواتنا عظیم انقلاب بپا ہو گیا ہے وہاں۔غانا میں بڑے مسلمان ہیں تعداد کے لحاظ سے لیکن منتشر اور پراگندہ جن کا کوئی وقار اور کوئی مقام نہیں اور جماعت نے وہاں کام شروع کیا اور پیار کے ساتھ ان کے دل جیتنیشر وع کئے۔دو جگہوں کا مجھے علم ہے جہاں شروع میں جب احمدی ہوئے تو ان کو اس قسم کے اسی طرح دُکھ اُٹھانے پڑے جس طرح بعض مقامات پر حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے زمانہ میں احمدیت کی ابتداء میں جو احمدی اکا دکا ہو جاتا تھا گاؤں میں اُن کا حقہ پانی بند کر کے اُن کو دُکھ پہنچائے جاتے تھے ہمارے ملک میں اور وہ ثابت قدم رہے۔ایک اُن میں سے ”وا‘ کا علاقہ ہے غانا کے شمال میں۔ابتداء میں وہاں چند آدمی ، چند خاندان احمدی ہوئے انہوں نے بڑی مصیبتیں جھیلیں اسلام کی خاطر ، جسے ہم احمدیت کہتے ہیں۔اور اب وہاں پندرہ بیس ہزار پر مشتمل احمدی جماعت قائم ہو چکی ہے اور اخلاق کا رُعب ہے۔ہنستے ہوئے مسکراتے ہوئے جب آپ ملاقات کرتے ہیں وہ اپنا اثر کرتی ہے لوگوں کے کام آنا ، لوگوں کے دُکھوں کو دُور کرنے کی کوشش کرنا ، ان کی عزت کرنا یہ اپنا اثر رکھتا ہے۔اب حالت اتنی بدل گئی ہے کہ بارشوں کی وجہ سے رستے ٹوٹے ہوئے تھے میں وہاں جانہیں سکا، کئی سومیل کا فاصلہ ہے’اکر ا دارالخلافہ سے۔اُن کا ایک چھوٹا سا وفد اڑھائی سو افراد پر مشتمل وہاں سے آیا۔اکرا میں ملا اور سالٹ پانڈا گلے روز میں گیا جمعہ کے لئے تو وہاں وہ بھی شریک ہوئے۔یہ بیچ میں ایک بات میں کر جاؤں سالٹ پانڈ کی۔مجھے بتایا گیا ہے کہ ایک خراب سے ٹی وی کے اوپر آپ نے کچھ جھلکیاں فلم کی دیکھی ہیں رات کو۔ٹی وی سیٹ اگر اچھا ہو تو اس فلم کی آواز بھی بڑی صاف ہے۔مجھے بتایا گیا ہے صاف آواز نہیں تھی۔آواز صاف ہے ویسے یہ جو یہاں ٹی وی تھا اُس کی آواز صاف نہیں تھی۔فلم کی آواز صاف ہے۔وہاں ہم نے بہت محتاط اندازہ لگایا تھا۔پچیس ہزار کے قریب احمدی جمعہ میں شامل تھےمردوزن افريقينز (ہماری جو جماعت ہے وہاں ) ان کا اندازہ تھا چالیس اور پچاس ہزار۔لیکن یہ جو جمعہ ہم نے پڑھا ہے پرسوں ، آپ نے دیکھا ہوگا مسجد کا صحن بھی بھرا ہوا تھا، اندر کا حصہ بھی بھرا ہوا تھا۔آپ نے جو بیٹھے ہوئے تھے وہ نہیں دیکھا جو میں نے دیکھا۔میں صفیں درست کرواتا ہوں۔یہ بھی سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم ہے۔آپ صفیں درست کرواتے تھے ایسے مجمع میں۔تو ہر جمعہ میں مجھے کچھ 6۔