سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 363
سبیل الرشاد جلد دوم 363 پیارے بندوں سے یہ بڑا ہی پیارا سلوک ہوتا ہے کہ وہ اُن کا امتحان لیتا ہے۔جس ابتلاء کا یہاں ذکر ہے اُس ابتلاء میں جب اُن کو ڈالتا ہے تو یہ اُس کے پیار کا نتیجہ ہوتا ہے۔یہ ناراضگی کا نتیجہ نہیں ہوتا۔لیکن بعض لوگ اسے عذاب میں تبدیل کر لیتے ہیں۔اس آیت سے ہمیں یہ پتہ لگتا ہے کہ جس ابتلاء کا خدا تعالیٰ نے یہاں ذکر کیا ہے وہ تھوڑا سا ہے۔فرما یا بِشَيْ مِنَ الْخَوْفِ کچھ تھوڑا سا میں تمہیں ابتلاء میں بھی ڈالوں گا۔یہ بڑا لطیف اور حسین فقرہ ہے۔اگر انسان کی ساری عمر بھی اس ابتلاء میں سے گزرے تب بھی تھوڑا سا ہی ابتلا ء ہوتا ہے۔کیونکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی معظمند انکار نہیں کر سکتا کہ قرآن کریم نے یہ کیا ہی سچا اعلان کیا ہے : وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً ) اللہ تعالیٰ نے اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں انسان پر موسلا دھار بارش کی طرح برسائی ہیں۔تو اس موسلا دھار بارش میں اگر کوئی ایک ژالہ یا اولہ یا برف کا ایک قطرہ کسی کان کے پاس آلگے اور اس سے تھوڑی سی درد ہو تو وہ چیخنے تو نہیں لگ جاتا۔در حقیقت یہ بھی خدا تعالیٰ کے پیار ہی کا ایک اظہار ہوتا ہے۔اس پیار کی ایک مثال مجھے یاد آ گئی۔ہمارے ایک بزرگ تھے۔ایک دن بڑی گرمی کے زمانے میں اُن کے دل میں برف کھانے کی خواہش پیدا ہوئی۔یہ صدیوں پہلے اُس زمانے کی بات ہے جب برف بنانے کے کارخانے نہیں ہوتے تھے۔بس اُن کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی اور ایسے وقت پیدا ہوئی جب کہ سورج کی تپش کی وجہ سے شدید گرمی تھی اور دو پہر کا وقت تھا اور آسمان پر کوئی بادل نہیں تھا۔چنانچہ جوں ہی اُن کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی۔انہوں نے دیکھا ایک چھوٹی سی بدلی آئی ہے اور وہ اُن کے سر پر آ کر ٹھہر گئی ہے۔اور اس سے قطرے گرنے شروع ہو گئے ہیں۔چنانچہ ژالہ باری سے اُن کا صحن برف سے بھر گیا۔وہ بڑے سخت جذباتی ہو گئے۔انہوں نے وہ اولے اکٹھے کئے۔وہ اتنے جذباتی ہوئے کہ اتنا پیار کرنے والا ہے میرا رب۔ادھر میرے دل میں برف کھانے کی خواہش پیدا ہوئی اور اُدھر میرے لئے اس کا سامان پیدا کر دیا گیا۔انہوں نے ایک اولہ اُٹھایا اور الحمد للہ کہہ کر اپنے منہ میں ڈالا اور باقی سارے اولے اپنے اردگرد ہمسایوں اور دوستوں میں تقسیم کر دیئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کا یہ نشان مجھے دکھایا ہے۔پس یہ ہے ہمارا رب کریم جو بڑا پیار کرنے والا ہے اور اپنی نعمتوں کو موسلا دھار بارش کی طرح ہم پر نازل کرنے والا ہے۔اگر وہ تھوڑے عرصہ کے لئے ہمیں آزماتا ہے جو اس کی عظیم نعماء کی بارش کے سوره لقمان آیت ۲۱