سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 338 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 338

۔338 سبیل الرشاد جلد دوم کوئی گنجائش نہیں سمجھی جاتی وہ علم حساب ہے مثلاً دو اور دو چار بنتے ہیں لیکن چوٹی کے حساب دان دماغ نے علم حساب کی بنیا د مفروضات پر رکھی ہے اور اس طرح بنیادی طور پر ایک خامی پیدا کر دی ہے کیونکہ جس عمارت کی بنیا د مفروضے پر کھڑی کی جائے گی اگر وہ مفروضہ نیچے سے نکل جائے تو ساری عمارت دھڑام سے نیچے آجائے گی۔ہمارے احمدی اور بعض غیر احمدی بچے بھی جوایم۔اے وغیرہ کے طالب علم ہوتے ہیں وہ مجھے ملنے آتے ہیں تو میں اُن کو سمجھاتا ہوں کہ ہمیں اصل ہدایت اور نور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عطا ہوا ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں اسلام کی پہلی تین صدیوں میں خصوصاً اور بعد کی صدیوں میں عموماً ہر میدان میں ایسے لوگ کثرت کے ساتھ پیدا ہوئے جنہوں نے یہ ثابت کیا کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ایک بڑا عظیم وجود ہے کہ جن سے فیض حاصل کر کے لاکھوں انسان دُنیا کے رہبر بن گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل خدا تعالیٰ سے سیکھ کر کوئی علم تاریخ میں رہنمائی کرنے والا بن گیا۔کوئی خدا تعالیٰ سے سیکھ کر علم طب میں رہنمائی کرنے والا بن گیا اور کوئی خدا تعالیٰ سے علم پا کر اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے منور ہو کر علم کلام کے میدانوں میں سب سے آگے نکل گیا۔کسی نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انتہائی محبت کر کے اور خدا تعالیٰ کے عشق میں فنا ہو کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات مبارکہ اور ارشادات عالیہ کو جمع کرنے میں کمال حاصل کیا۔کئی ایک ایسے بزرگ بھی تھے جنہوں نے قرآن کریم کی تفسیر کر کے اُمت محمد یہ سے خراج تحسین حاصل کیا۔غرض اپنی اپنی جگہ ان سب کی بڑی شان ہے لیکن ایک چیز نمایاں ہے کہ خلافتِ راشدہ کے بعد یہ گروہ کثیر ، خدا کے برگزیدوں کی یہ جماعت ، اخیار وابرار کی یہ جماعت ، مجددین اور اولیاء اللہ کا یہ گروہ کہ جن کی لاکھوں کی تعداد تھی اُن کا کوئی مرکزی نقطہ نہیں تھا جس کے ساتھ وہ بندھے ہوئے ہوتے اور اس میں خدا تعالیٰ کی کوئی نہ کوئی حکمت تھی۔میں نے بتایا ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تو قیامت تک ممند ہے۔آپ کو بشارت دی گئی ہے۔لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِه که اسلام تمام ادیان پر غالب آئے گا اور نوع انسانی کو امت واحدہ بنا کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کر دیا جائے گا۔لیکن ساتھ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ اسلام کے عروج کا جو زمانہ ہے یعنی زمانہ کے لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جو سیر روحانی ہے، امت مسلمہ اس عروج کو ضرور پہنچے گی لیکن پہنچے گی آپ کے ایک نائب نبوت یعنی مہدی اور مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں۔قرآن کریم نے بھی یہی بتایا ہے۔قرآن کریم کی تفسیر کرتے سورۃ التوبہ آیت ۳۴۔نیز سورۃ الصف : ۱۰)