سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 317 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 317

سبیل الرشاد جلد دوم کی آنکھوں کے آگے متقی ٹھہر جاؤ تو تمہیں کوئی بھی تباہ نہیں کر سکتا اور وہ خود تمہاری حفاظت کرے گا۔اور دشمن جو تمہاری جان کے درپے ہے تم پر قابو نہیں پائے گا۔ور نہ تمہاری جان کا کوئی حافظ نہیں اور تم دشمنوں سے ڈر کر یا اور آفات میں مبتلا ہو کر بے قراری سے زندگی بسر کرو گے اور تمہاری عمر کے آخری دن بڑے غم اور غصہ کے ساتھ گزریں گے۔خدا اُن لوگوں کی پناہ ہو جاتا ہے جو اس کے ساتھ ہو جاتے ہیں۔سو خدا کی طرف آجاؤ اور ہر ایک مخالفت اس کی چھوڑ دو اور اس کے فرائض میں سستی نہ کرو اور اس کے بندوں پر زبان سے یا ہاتھ سے ظلم مت کرو اور آسمانی قہر اور غصب سے ڈرتے رہو۔یہی راہ نجات ہے۔317 یہ اقتباس تو اپنے لئے دعائیں کرنے کے لئے پڑھا ہے۔دوسروں کے لئے دُعائیں کرنے کے سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : میں تمام مسلمانوں اور عیسائیوں اور ہندوؤں اور آریوں پر یہ بات ظاہر کرتا ہوں کہ دُنیا میں کوئی میرا دشمن نہیں ہے۔میں بنی نوع سے ایسی محبت کرتا ہوں کہ جیسے والدہ مہربان اپنے بچوں سے بلکہ اس سے بڑھ کر۔میں صرف ان باطل عقائد کا دشمن ہوں جن سے سچائی کا خون ہوتا ہے۔انسان کی ہمدردی میرا فرض ہے اور جھوٹ اور شرک اور ظلم اور ہر ایک بدعملی اور ناانصافی اور بداخلاقی سے 66 بے زاری میرا اصول۔“ دنیا جو چاہے کہتی رہے ہم خود کو مسلمان کہتے اور سمجھتے ہیں : میں پھر واپس آتا ہوں اُن باتوں کی طرف جو ابھی میں نے آپ سے کہی تھیں کہ ہم اسلام کو چھوڑ نہیں سکتے۔ہم خدا سے قطع تعلق نہیں کر سکتے۔ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار میں غرق ہیں اور آپ کی محبت میں فنا ہو چکے ہیں۔ہم آپ سے دُوری کی راہوں کو اختیار نہیں کر سکتے۔دُنیا جو چاہے ہمیں کہتی رہے۔ہم خود کو ایک مسلمان کہتے اور سمجھتے ہیں اور دن رات ہماری یہ کوشش رہتی ہے کہ ہم اپنے آپ کو عملی طور پر اسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ ) کا مصداق بنا ئیں اور اس کے لئے دُعائیں کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۷۱-۷۲ اربعین نمبرا روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۳۴۴ سورة آل عمران آیت ۲۱