سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 318
سبیل الرشاد جلد دوم 318 کریں۔اور کوشش کریں کہ خدا کی نگاہ میں بھی ہم بچے اور حقیقی مسلمان بن جائیں ، چنانچہ اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : و کیا میں اس نعمت معرفت اور علم صحیح کو ر ڈ کر دوں جو مجھ کو دیا گیا ہے؟ یا وہ آسمانی نشان جو مجھے دکھائے جاتے ہیں اُن سے منہ پھیر لوں یا میں اپنے آقا اور اپنے مالک کے حکم سے سرکش ہو جاؤں۔کیا کروں مجھے ایسی حالت سے ہزار دفعہ مرنا بہتر ہے کہ وہ جو اپنے حسن و جمال کے ساتھ میرے پر ظاہر ہوا ہے میں اُس سے برگشتہ ہو جاؤں۔یہ دُنیا کی زندگی کب تک اور یہ دُنیا کے لوگ مجھ سے کیا وفاداری کریں گے۔تا میں اُن کے لئے اُس یار عزیز کو چھوڑ دوں۔“ پس ہم دُنیا کے لئے اُس یار عزیز کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔اس کے لئے ہمیں خدا تعالیٰ کی نصرت اور اس کی مدد کی ضرورت ہے اور اس کے لئے ہمیں خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کی ضرورت ہے۔آؤ دعاؤں کے ساتھ ہم اس کے دامن کو جھنجوڑ یں اور اس سے کہیں کہ اے خُدا! تو اپنے فضل اور رحمت سے ہمیں یہ ہمت اور طاقت عطا کر کہ دنیا جو کہنا چاہے کہتی رہے۔ہم اُس کی نگاہ میں کبھی غیر مسلم نہ ٹھہریں۔آواب دُعا کریں۔اُس نہایت پُر سوز اجتماعی دعا کے بعد حضور نے فرمایا آپ کا پروگرام جاری رہے گا۔ہمت سے اور فراست سے اپنے پروگرام کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو گا۔( غیر مطبوعہ ) اضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحه ۱۳۰ روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۹۷