سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 266 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 266

سبیل الرشاد جلد دوم 266 جانے کے اہل نہیں تھے لیکن نشانہ بازی میں اور تلوار چلانے میں وہ بہت آگے تھے۔اُس وقت اسلام کے پاس جو اصل اسلحہ تھا وہ اسلام کی اندرونی خوبیاں اور اُس کا حُسن اور اُس کا نو ر تھا۔لیکن دشمن نے مجبور کیا اور تلوار نکال لی۔اور تلوار کا مقابلہ مجبوراً تلوار سے کرنا پڑا۔پھر بھی اسلام نے کہا کہ ہے تو یہ ایک ذیلی چیز لیکن اس میں بھی تو مجھے شکست نہیں دے سکتا۔اُن کے دلوں میں یہ عزم تھا۔اس لئے کہ وہ جانتے تھے کہ شیطان کے ساتھ جنگ کی ابتداء ہو چکی اُنہوں نے ایک Pattern۔۔۔خاکہ۔۔۔بنانا ہوتا ہے پہلی لڑائیاں بعد میں لڑی جانے والی لڑائیوں کا ایک خاکہ تجویز کرتی ہیں۔اگر پہلی لڑائیوں میں پسپائی ہو جائے تو بعد میں بعض دفعہ صفیں بھی درست نہیں کی جاسکتیں۔اب بھی ان جنگوں میں ایسا ہی ہوا۔جرمنی نے دوسری جنگ عظیم میں ایک چھوٹے سے حصہ میں اس طرح یلغار کی کہ سینکڑوں میل اندر چلا گیا۔اور انگریز جیسی سلطنت جس کی زبان British Empire کہتے ہوئے تھکتی نہ تھی اُن کو ڈنکرک جیسی مصیبت کا سامنا کرنا پڑا۔پس پہلی جنگوں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔وہ جنگ جو چودہ سو سال پر پھیلی ہوئی تھی اُس جنگ کی پہلی لڑائیاں بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔دنیا کی کوئی مثال اِس کو نمایاں نہیں کر سکتی۔اور قرونِ اولیٰ میں مسلمانوں نے دوفتم کی جنگ لڑی۔اصل جنگ جو قرآن کریم کے روحانی اسلحہ کے ذریعہ تھی وہ بھی لڑی گئی۔اور جو تلوار کی جنگ تھی وہ بھی لڑی گئی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہمارے ایک محبوب جرنیل خالد بن ولیڈ آئے۔آپ اُن کے خطبے پڑھیں۔اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ جیسے کوئی بہت بڑا عالم خطبے دے رہا ہے۔اسلام کی رُوح اُن کے اندر گڑی ہوئی تھی۔ان کے اندر سے جو نکلتا تھا وہ خالص اسلام تھا۔معلوم ہوتا ہے انہیں ایک جگہ قیصر کے ساتھ مقابلہ میں یہ معلوم ہوا کہ بہت زیادہ فرق اسلامی فوج اور دشمن کی فوج میں تھا۔دشمن کی فوج کئی لاکھ تھی۔اور اسلامی فوج تمہیں چالیس ہزار تھی۔اس موقعہ پر حضرت خالد بن ولیڈ نے ایک طویل خطبہ دیا۔اُس میں اُنہوں نے یہی کہا کہ جیت یا ہار کا انحصار سپاہ کی تعداد یا ہتھیاروں کی برتری پر نہیں ہوا کرتا۔بلکہ خدا تعالیٰ کے منشاء پر ہوتا ہے۔اس لئے تم گھبراؤ نہیں۔خدا کا وعدہ ہے کہ تم جیتو گے۔اور وہ جیتے۔کسری کے مقابلہ میں بھی بہت تھوڑی تعداد تھی۔چودہ ہزار کی فوج لے کر اُن کو پہلے مدافعت کرنا پڑی اور پھر حملہ بھی کرنا پڑا۔اور ہر جنگ میں جو دو تین دن کے بعد ہوتی تھی چالیس پچاس یا بعض اوقات ساٹھ ستر ہزار کی تعداد میں تازہ دم ایرانی فوج مقابلہ میں آئی تھی۔اور یہ وہی پرانے تھکے ہوئے سپاہی ، ان میں سے بھی کچھ زخمی اور کچھ شہید ہو جاتے تھے۔حضرت خالد بن ولیڈ نے حضرت ابوبکر