سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 8 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 8

8 سبیل الرشاد جلد دوم یہ ہوا اللہ تعالیٰ ہی فضل کرنے والا ہے ) کہ بارہ گھنٹے کے اندر اندر میری تکلیف آدھی رہ گئی اور ۲۴ گھنٹے کے اندراندروہ دور ہوگئی۔حالانکہ میں نے وہاں کوئی خاص دوائی بھی استعمال نہیں کی تھی۔صرف یہی نسخہ استعمال کیا تھا جو میں نے ابھی آپ کو بتایا ہے۔پس اگر کوئی شخص اپنے لئے کچی روٹی پکاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ کہیں اس کا میرے پیٹ پر بُرا اثر نہ ہو تو اس کا علاج یہ ہے کہ نسبتا کم کھایا جائے اور عام عادت کے مقابلہ میں لقمہ کو بہت زیادہ چبایا جائے تو وہ منہ میں پورا لیکوئڈ (Liquid) بن جائے یعنی مائع کی شکل اختیار کر جائے۔اس طرح معدہ اس کو بڑی جلدی ہضم کر لیتا ہے خواہ وہ کچا ہی کیوں نہ ہو۔کوئی عادت نہ ڈالیں پس ہمیں ایک تو ہر قسم کے ماحول میں زندگی گزارنے کی عادت ڈالنی چاہئے بڑوں کو بھی اور بچوں کو بھی۔یعنی یہ عادت ڈالنی چاہئے کہ ہمیں کوئی عادت نہ پڑے۔میں نے اپنی عمر میں بڑی چائے پی ہے لیکن مجھے چائے پینے کی کبھی عادت نہیں پڑی یعنی جب چاہوں میں کئی کئی دن تک چائے پینا چھوڑ دیتا ہوں اور اس کا مجھے کوئی احساس نہیں ہوتا۔ایک دفعہ ایک چیز کے متعلق مجھے خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ شاید اس کی مجھے عادت پڑ گئی ہے اور وہ دودھ ہے۔تین سال کی بات ہے میں نے خیال کیا کہ دودھ پینا چاہئے دودھ پینا اچھا ہوتا ہے۔چنانچہ میں نے رات کو دودھ پینا شروع کیا۔ایک دو ماہ کے بعد میں نے محسوس کیا کہ اگر مجھے دودھ نہ ملے تو مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کوئی چیز ملی نہیں۔اس پر میں نے دودھ پینا چھوڑ دیا اور سال بھر اسے چھوڑے رکھا۔اب کبھی کبھی پی لیتا ہوں غرض کسی چیز کی عادت نہیں ڈالنی چاہئے۔اچھی کچی ہوئی روٹی کی بھی عادت نہیں ڈالنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سادگی کا تو یہ حال تھا کہ آپ بٹالہ تشریف لے جاتے تھے تو غالبا اس زمانہ میں چند آ نے اپنے نوکر کو دیتے تھے کہ جا کر روٹی کھا آؤ اور خود تنور کی ایک روٹی منگوا لیتے تھے جو شاید ان دنوں ایک پیسہ یا دو پیسہ کی آجاتی تھی اور تھوڑا سا دہی منگوا لیتے تھے اور اس دہی سے روٹی کھا لیتے تھے۔ورنہ سفر ہمارے لئے مصیبت بن جائے اور اگر سفر مصیبت بن جائے تو جیسا کہ میں نے آج ہی بتایا ہے ایک قسم کا مجاہدہ خدا تعالیٰ کی راہ میں سفر کرنا بھی ہے اس مجاہدہ سے ہم محروم رہ جاتے ہیں۔اپنی صحت کا خیال جب ہم رکھ سکتے ہوں رکھنا چاہئے لیکن اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم کو ایسے بنایا ہے کہ اگر انسان کھانا یہ سوچ کر کھائے کہ میں نے اسے خوب چبا کر کھانا ہے اور کھانا خوب چبا کے کھایا جائے تو انسان کو سخت چیز بھی ہضم ہو جاتی ہے۔آپ اگر اپنے ہاتھ سے روٹی پکا ئیں گے تو وہ اس روٹی سے خراب نہیں ہوگی جو جیل میں ایک مہینہ پچیس دن ہمیں ملی۔وہ آٹا کیا تھا میرے خیال میں کئی سو آدمی کئی سال تک ریسرچ کریں اور ان کو بتایا نہ جائے کہ وہ کیا ہے تو انہیں