سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 203
سبیل الرشاد جلد دوم 203 ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا کہ وہ ہماری کمر پر ہاتھ رکھیں اور ہمیں آگے ہی آگے تیزی سے چلاتے چلے جائیں۔مغربی افریقہ کے ایک ہیلتھ سنٹر جس کی میں مثال دے رہا ہوں اور وہ دوسروں سے نسبتاً اچھا ہے، کے جاری کرنے پر ہم نے ڈیڑھ ہزار پونڈ خرچ کیا۔یہ سب خرچ بیرون پاکستان کی جماعتوں کے چندہ سے کیا جاتا ہے۔دس فیصد کے لحاظ سے ڈیڑھ ہزار پونڈ پر میں ڈیڑھ سو پونڈ سال کا نفع ہونا چاہئے تھا یعنی اگر ہم یہی ڈیڑھ ہزار پونڈ کسی اچھی کمپنی میں لگا دیتے تو سال کے بعد وہ کمپنی ہمیں ڈیڑھ سو پونڈ نفع دے دیتی مگر اللہ تعالیٰ نے ڈیڑھ ہزار کے اوپر ہمیں پانچ مہینے کے بعد جو نفع دیا وہ چھ ہزار پونڈ ہے۔افریقہ میں ہیلتھ سنٹرز اور سکولوں کا قیام : پھر یہ تو ایک مالی چیز ہے۔اصل چیز عوام کی خدمت ہے۔اس سے وہاں ایک جوش اور پیار پیدا ہو رہا ہے (جوش کام کے لئے اور پیاران خادموں کے کام کے ساتھ ) اصل بنیادی چیز اسلام ہے جس کے ساتھ ہم پیار پیدا کرنا چاہتے ہیں اور جس کے نتیجہ میں خدائے واحد و یگانہ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیار پیدا ہو گا۔عیسائی باشندے ہیلتھ سنٹرز کے لئے ہمیں زمینیں دے رہے ہیں اور پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہ جلد ہسپتال کھولے جائیں اور ابھی وقت بھی کیا ہوا ہے۔میں پچھلے سال مئی میں افریقہ سے واپس آیا تھا اور اس طرح قریباً چودہ مہینے ہوئے ہیں اور وعدہ میں نے یہی کیا تھا کہ اگلے پانچ سال کے لئے سکیم بنا رہے ہیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ کم از کم ایک لاکھ پونڈ ان ملکوں میں خرچ کر دو اور اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء گیمبیا میں مجھ پر ظاہر ہوا تھا اور یہ اس وقت ظاہر ہوا تھے جب میرے پاس کام کے لئے لاکھ آ نہ بھی نہیں تھا۔لیکن مجھے کوئی گھبراہٹ اس لئے نہیں ہوئی کہ جب خدا تعالیٰ جو تمام دولتوں کا مالک ہے وہ کہتا ہے تو وہ مجھے دے گا بھی۔چنانچہ میں نے لندن آ کر بھی یہی اعلان کیا تھا اور یہاں آ کر بھی یہی اعلان کیا کہ مجھے یہ فکر نہیں کہ پیسہ کہاں سے آئے گا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ دولتوں کا اصل مالک ہے۔اس نے کہا ہے تو وہ دے گا کیونکہ اس کے خزانے میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے یا مجھے یہ فکر نہیں تھی کہ آدمی کہاں سے آئیں گے۔چند سال ہوئے میں نے تحریک جدید کو کہا کہ تم وہاں اور ڈاکٹر کیوں نہیں بھیجتے ؟ تو تحریک نے کہا کہ کوئی ڈاکٹر ہی نہیں ملتا۔ہم بھیجیں کیسے؟ اور وہاں میں وعدہ کر آیا تھا چھ ملکوں کے لئے کم سے کم 18 ڈاکٹروں کا اور یہ کہتے تھے کہ ہمیں وہاں بھیجنے کے لئے ایک ڈاکٹر بھی نہیں ملتا۔لیکن مجھے کوئی فکر نہیں تھا بلکہ مجھے یقین تھا کہ جب خدا تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ وہاں ڈاکٹر بھیجے جائیں تو ڈاکٹر آئیں گے کیونکہ میں نے ڈاکٹر پیدا نہیں کرنے اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے۔