سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 114 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 114

سبیل الرشاد جلد دوم وارث وہی ہوتا ہے جوسب کے بعد ہو۔پھر اس پر بھی غور کرنا چاہئے کہ جس حالت میں خدا تعالیٰ نے ایک مثال کے طور پر سمجھا دیا تھا کہ میں اسی طور پر اِس اُمت میں خلیفے پیدا کرتا رہوں گا جیسے موسی کے بعد خلیفے پیدا کئے تو دیکھنا چاہیئے تھا کہ موسی کی وفات کے بعد خدا تعالیٰ نے کیا معاملہ کیا۔تو پھر کیونکر ہو سکتا تھا کہ حضرت موسی کے خلیفوں کا چودہ سو برس تک سلسلہ ممتد ہو اور اس جگہ صرف تمہیں برس تک خلافت کا خاتمہ ہو جاوے۔“ اور دوسری جگہ آپ نے فرمایا ہے کہ۔114 اُمّتِ موسویہ میں ہزار ہا خلفاء اس سلسلہ میں پیدا ہوئے ایک ایک وقت میں چار چار سو نبی بھی ہوتا تھا جو تجدید دین کے لئے آتا تھا مثلاً جب موسی علیہ السلام کی اُمت پھیل گئی تو اس زمانہ میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنا یا ان کی تربیت کرنا بڑا مشکل تھا۔تو جب بنی اسرائیل مختلف علاقوں میں پھیل گئے اور مختلف قبائل اور گروہوں میں تقسیم ہو گئے تو ان کو خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ اور بشارت کے مطابق سنوارنا تھا۔ایسی حالت میں چار چار سونبی کی بھی ضرورت پیدا ہوئی۔جتنے کی ضرورت تھی اور جس رنگ میں ضرورت تھی خدا نے جو وعدہ کیا تھا وہ اُس نے پورا کیا کیونکہ وہ سچے وعدوں والا ہے۔آپ فرماتے ہیں:۔برائے خدا سوچو کہ اس آیت کے یہی معنی ہیں کہ ہمیشہ قیامت تک تم میں روحانی زندگی اور باطنی بینائی رہے گی اور غیر مذہب والے تم سے روشنی حاصل کریں گے اور یہ روحانی زندگی اور باطنی بینائی جو غیر مذہب والوں کو حق کی دعوت کرنے کے لئے اپنے اندر لیاقت رکھتی ہے یہی وہ چیز ہے جس کو دوسرے لفظوں میں خلافت کہتے ہیں۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ محضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا سلسلہ جاری ہے مگر آپ میں سے ہو کر اور آپ کی مُہر سے۔اور فیضان کا سلسلہ جاری ہے کہ ہزاروں اس اُمت میں سے مکالمات اور مخاطبات کے شرف سے مشرف ہوئے اور انبیاء کے خصائص ان میں موجود ہوتے رہے ہیں۔سینکڑوں بڑے بڑے بزرگ گزرے ہیں جنہوں نے شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۵۲ تا ۳۵۵ شہادت القرآن طبع اوّل صفحه ۳۷ - ۳۸، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۵۵