سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 92 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 92

92 سبیل الرشاد جلد دوم ہے اور یہ بھی وعدہ دیا گیا کہ اگر کامل اطاعت کا نمونہ دکھاؤ گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری بشری کمزوریوں کے پیش نظر خلافت حقہ کا نظام تم میں جاری کرے گا اور ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جن کا تعلق پختہ اور کامل طور پر اپنے رب سے ہوگا۔وہ اپنے اور تمہارے رب کے منشاء کے مطابق تمہاری راہنمائی کرتے رہیں گے اور تمہیں سہارا دیتے رہیں گے، تمہاری غفلتوں ، سُستیوں اور کوتاہیوں کو دُور کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے اور ان نیک اعمال کی طرف رہنمائی کرتے رہیں گے جو حالاتِ حاضرہ کا تقاضا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو بہت سے احکام دیئے ہیں ان میں سے ایک حکم تو یہ ہے کہ ہم ملکی قوانین کا احترام کریں اور حکومت وقت کے ساتھ تعاون کریں۔یہ ایک ایسی چیز ہے جس کی بنیاد اسلامی احکام کے مطابق ہے (یعنی اطاعت قانون اور حکومت وقت سے تعاون ) گو ظاہر میں اس کا تعلق سیاست سے ہے اس لئے ہمیشہ ہم پر یہ آوازے گئے جاتے رہے ہیں کہ تم خوشامدیوں کی جماعت ہولیکن ایسے آوازے کسنے والے یہ نہیں سمجھتے کہ ہم دنیا سے کوئی محبت اور پیار نہیں رکھتے لیکن ہمیں اس بات پر علی وجہ البصیرت قائم کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی منشاء اور مرضی کے مطابق ہم اپنی زندگیوں کو گزاریں خواہ دنیا جو مرضی سمجھے جو مرضی کہے۔اس لئے ہر فرد جماعت کا فرض ہے کہ وہ ملکی قانون کا احترام کرے اور ہر جائز اور معروف کام میں حکومت وقت کے ساتھ پورا پورا تعاون کرے ، کسی قسم کے فتنہ کا باعث نہ بنے۔امن اور صلح اور آشتی کی فضا جیسا کہ دنیا کی ہر عقلمند حکومت اپنے ملک میں قائم کرنا چاہتی ہے۔اس امن اور صلح کی فضا کو قائم کرنے کے لئے حکومتِ وقت کے ساتھ پورا پورا تعاون کرے۔جو ایسا نہیں کرتا وہ شاید دنیا کے ایک حصہ کو خوش کر سکے لیکن یقیناً وہ اپنے رب کو ناراض کرنے والا ہوگا۔پس ہم حکومت سے تعاون اور قانون کی پابندی اس لئے کرتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں کہتا ہے کہ ایسا کرو ورنہ میں تم سے ناراض ہو جاؤں گا اور اللہ کی ناراضگی کی ہمیں زیادہ پروا ہے بہ نسبت ان ناراضگیوں کے جن کا اظہار بعض دُنیا داروں کی طرف سے ہوتا ہے۔ایک دوسرا حکم جو اللہ کی اطاعت اور رسول کی اطاعت کے بنیادی حکم کے تحت ہمیں ملا ہے (ایسے سینکڑوں احکام ہیں۔میں اس وقت ان میں سے دو یا تین کو ئوں گا ) اپنے نفوس کی تربیت اور اپنے بچوں اور خاندان اور اپنے ماحول کی تربیت ہے۔جب اللہ تعالیٰ کے مامور کا زمانہ گزر جاتا ہے تو وہ طاقتیں جو خدا تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے