سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 47
۴۷ چنانچہ اس نے جھٹ یہ آیت پڑھ دی کہ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ امَنَّا بِالله وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ (سورة البقره آیت ۹) اور کہا کہ اس سے مرزا صاحب کی صداقت ثابت کیجئے۔میں نے کہا اس آیت میں کن لوگوں کا ذکر ہے۔کہنے لگا مسلمانوں کا۔میں نے کہا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسلمان بگڑ سکتے تھے تو اب کیوں نہیں بگڑ سکتے اور جب آج بھی مسلمان بگڑ سکتے ہیں تو ان کی اصلاح کے لئے خدا کی طرف سے کسی کو آنا چاہئے یا نہیں ؟ تمہاری دلیل یہی ہے کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی مصلح اور مامور کے آنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔مگر قرآن کہتا ہے کہ محمد صلی اللہ علی علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی بعض لوگ گمراہ تھے اور جب آپ کے زمانہ میں بھی بعض لوگ گمراہ تھے تو آپ کے بعد تو بدرجہ اولیٰ مسلمان گمراہ ہو سکتے ہیں اور جب گمراہ ہو سکتے ہیں تو لازماً خدا کی طرف سے مصلح بھی آسکتا ہے۔پس یا تو یہ مانو کہ امت محمدیہ کبھی گمراہ نہیں ہو سکتی اور اگر ایسا کہو تو قرآن کے منشاء کے خلاف ہوگا کیونکہ جو آیت تم نے پڑھی ہے، اس میں یہی ذکر ہے کہ مسلمانوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو مونہہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں مگر حقیقت میں وہ مومن نہیں اور جب امت محمدیہ گمراہ ہو سکتی ہے تو اس کی اصلاح کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی مامور بھی آسکتا ہے۔یہ بات جو میں نے اس کے سامنے کبھی یونہی مشغلہ کے طور پر نہیں کہہ دی تھی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن سارے کا سارا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ثبوت ہے۔جس طرح تو رات کا جتنا سچا حصہ ہے وہ سارے کا سارا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا ثبوت ہے۔جس طرح انجیل کا جتنا سچا حصہ ہے وہ سارے کا سارا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا ثبوت ہے۔اسی طرح قرآن سارے کا سارا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سچائی کا ثبوت ہے قرآن سارے کا سارا حضرت عیسی علیہ السلام کی سچائی کا ثبوت ہے۔قرآن سارے کا سارا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ثبوت ہے۔جس طرح قرآن سارے کا سارا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا ثبوت ہے۔اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا تھا کہ کان خلقه القرآن یعنی قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں کوئی فرق نہیں بلکہ قرآن کی ہر آیت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت ثابت کرتی ہے۔پس جماعت میں بیداری پیدا کرو انہیں دینی اور مذہبی مسائل سکھاؤ۔انہیں دوسروں کے خیالات کو پڑھنے دو اور اگر وہ خود نہیں پڑھتے تو خود