سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 46
۴۶ ان اعتراضات کے کیا کیا جوابات ہیں۔یہ تعلیم کا سلسلہ زبانی ہونا چاہئے اور پھر زبانی ہی ان کا امتحان بھی لینا چاہئے تا جماعت میں بیداری پیدا ہو اور وہ دوسروں کے ہر حملہ سے اپنے آپ کو پوری ہوشیاری سے بچا سکے۔مگر یہ نہ ہو کہ تم اپنی کتابیں پڑھنی چھوڑ دو اور دوسروں کی کتابیں پڑھنے میں ہی مشغول ہو جاؤ۔پہلے اپنے سلسلہ کی کتابیں پڑھو۔ان کو یاد کروان کے مضامین کو ذہن نشین کرو اور جب تم اپنے عقائد میں پختہ ہو جاؤ تو مخالفوں کی کتابیں پڑھو۔ان کو یاد کروان کے مضامین کو ذہن نشین کرو اور جب تم اپنے عقائد میں پختہ ہو جاؤ تو مخالفوں کی کتابیں پڑھو مگر چوری چھپے نہ پڑھو بلکہ علی الاعلان پڑھو اور سب کے سامنے پڑھو اور پھر مخالف کے دلائل کا پوری مضبوطی سے رد کرو اور دوسروں کے مقابلہ میں ایک شیر کی طرح کھڑے ہو جاؤ تا تمہارے متعلق کسی کو یہ و ہم نہ ہو کہ دوسرا تمہیں ورغلا سکے گا۔بلکہ جب وہ تمہیں چھیڑے تو ہر شخص کا دل اس یقین سے بھرا ہوا ہو کہ اب تم ضرور کوئی نہ کوئی شکار پکڑ کر لے آؤ گے۔پس تم اپنے آدمیوں کو شیر کی طرح دلیر بناؤ۔انہیں بلوں میں چھپنے والے چوہے نہ بناؤ تم تجربہ کے بعد خود بخود دیکھ لو گے کہ اس کے بعد جماعت روحانی لحاظ سے کتنی مضبوطی حاصل کر لیتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اگر ہمارے پاس سچائی ہے تو ہمیں مخالف کی کسی بات کیا خوف ہوسکتا ہے۔وہ لاکھ اعتراض کرے خدا اس کے تمام اعتراضات کو باطل کر دے گا۔میرا اپنا تجربہ ہے کہ مخالف خواہ کیسا ہی اعتراض کرے خدا تعالیٰ اس کا کوئی نہ کوئی جواب ضرور سمجھا دیتا ہے۔تھوڑا ہی عرصہ ہوا چھوٹی مسجد میں ایک شخص آیا اور مجھ سے کہنے لگا کہ میں نے آپ سے ایک سوال کرتا ہے۔میں نے کہا کرو۔وہ کہنے لگا۔میں چاہتا ہوں کہ آپ مرزا صاحب کی صداقت قرآن کریم سے ثابت کریں۔میں نے کہا سارا قرآن مرزا صاحب کی صداقت سے بھرا پڑا ہے۔میں کس کس آیت کو پڑھوں۔وہ کہنے لگا آخر کوئی آیت تو پڑھیں میں نے کہا جب ہم نے کہہ دیا ہے کہ سارا قرآن ہی آپ کی صداقت سے بھرا ہوا ہے تو کسی ایک آیت کا سوال ہی کیا ہے۔تم خود کوئی آیت پڑھ دو میں اس سے حضرت مرزا صاحب کی صداقت ثابت کرنے کے لئے تیار ہوں۔قرآن کی بعض آیتیں لمبے چکر سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ثبوت بنتی ہیں اور بعض آیتوں سے سیدھے طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت ثابت ہو جاتی ہے مگر مجھے یقین تھا کہ خدا اس کی زبان پر کوئی ایسی آیت لائے گا جس سے وہ فوراً پکڑا جائے گا۔