سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 125

۱۲۵ خود فرشتے کہتے ہیں کہ ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں جتنا آپ نے ہمیں سکھایا ہے اور جو اتنا ہی جانتے ہیں جتنا انہیں خدا تعالیٰ نے سکھایا ہے۔انہیں فقہ اور دوسرے مسائل اور علوم میں غرق ہو کر نئے نئے نکتے نکالنے کی کیا ضرورت ہے۔انہیں تو خود خدا تعالیٰ نے سب کچھ سکھا دیا ہے۔پس یہ آیات فرشتوں پر صادق آہی نہیں سکتیں۔ہمارے نزدیک اس جگہ صحابہ کی جماعت کا ذکر ہے اور چونکہ جماعت کے لئے بھی مونث کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے اس لئے وَالنَّازِعَاتِ غَرْقاً کے معنے یہ ہوئے کہ ہم شہادت کے طور پر صحابہ کی ان جماعتوں کو پیش کرتے ہیں۔جو اسلام کی تعلیم میں محو ہو کر وہ وہ مسائل نکالتی ہیں، جو اسلام کی سچائی کو روز روشن کی طرح ثابت کر دیتے ہیں۔مگر چند دن ہوئے مجھے اللہ تعالیٰ نے سمجھایا ہے کہ ان آیات کے تیسرے معنی یہ ہیں کہ ہم ان عورتوں کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جو والنَّـا زِعَاتِ غَرْقاً کی مصداق ہیں اور اسلام کی تعلیم پر غور کر کے ان سے نئے نئے نکلتے نکالتی ہیں اور اسلام کی تعلیم میں انتہاک پیدا کرتی ہیں۔اس لئے کہ اسلام نے ان پر رحم کیا ہے اور اسلام ہی وہ مذہب ہے جس میں عورتوں کے حقوق کو تسلیم کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ عورت کے ماں ہونے کے لحاظ سے کیا حقوق ہیں، بیٹی ہونے کے لحاظ سے کیا حقوق ہیں، بیوی ہونے کے لحاظ سے کیا حقوق ہیں ، ترکہ میں اس کے کیا حقوق ہیں، اور اس طرح تمدنی زندگی میں اس کے کیا حقوق ہیں۔اسی وجہ سے احمدیت میں شامل ہو کر عورتیں جس قدر قربانی اور ایثار سے کام لے رہی ہیں اس کی مثال اور کسی قوم میں نہیں ملتی۔چنانچہ دیکھ لومسجد ہیگ (ہالینڈ) صرف عورتوں نے بنائی ہے۔اگر چہ ہیمبرگ (جرمنی) کی مسجد مردوں نے اپنے روپیہ سے بنائی ہے۔مگر اس کا پورا چندہ ابھی تک وہ ادا نہیں کر سکے۔لیکن بیگ کی مسجد کا تمام چندہ عورتیں ادا کر چکی ہیں۔صرف اس کا تھوڑا سا حصہ باقی ہے۔یہ