سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 126

۱۲۶ قربانی صرف احمدی عورتوں میں پائی جاتی ہے مسلمانوں کا اور کوئی فرقہ نہیں جس کی عورتیں اس طرح اشاعت اسلام کا کام کر رہی ہوں۔اہلحدیث کو لے لو، حنفیوں کو لے لو، جنبلیوں کے لے لو، مالکیوں کو لے لو، ان میں کہیں ایسی عورتیں نظر نہیں آتیں۔جو اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کر اور اسلام کی محبت میں غرق ہو کر اس کی اشاعت کے لئے کوشش کر رہی ہوں۔صرف احمدیوں میں ہی یہ بات نظر آتی ہے کہ ان کی عورتیں غیر ملکوں میں تبلیغ کے لئے چندے دیتی ہیں اور بعض دفعہ تو اتنی غریب عورتیں چندہ دیتی ہیں کہ ہمیں لیتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔مجھے یاد ہے پچھلے سال میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک سنارلڑ کا جو چنیوٹ میں رہتا ہے آیا اور اس نے سونے کے کڑے میرے ہاتھ پر لا کر رکھ دیئے اور کہا کہ میری ماں کہتی ہے۔کہ یہ کڑے میں نے کسی خاص مقصد کے لئے رکھے ہوئے تھے۔اب میں چاہتی ہوں کہ آپ انہیں بیچ کر کسی دینی کام لگالیں۔چنانچہ میں نے انہیں بیچ کر رقم مسجد ہیگ میں دے دی۔میرا خیال ہے کہ وہ ۴۔۵سو کے ہوں گے۔یہ چیز ہے جو صرف احمدی عورتوں میں پائی جاتی ہے، اس کی مثال نہ حنفیوں میں پائی جاتی ہے، نہ مالکیوں میں پائی جاتی ہے، نہ حنبلیوں میں پائی جاتی ہے، نہ شافعیوں میں پائی جاتی ہے۔اسی طرح روحانی فرقوں کو لے لو، تو نہ چشتیوں میں پائی جاتی ہے، نہ سہر وردیوں میں پائی جاتی ہے، اور نہ قادریوں میں پائی جاتی ہے۔صرف احمدیوں میں پائی جاتی ہے غرض روحانی فرقوں کے لحاظ سے بھی احمدی عورتیں تمام روحانی فرقوں کی عورتوں پر فضیلت رکھتی ہیں اور دوسرے فرقوں کے لحاظ سے بھی جو فقہی اختلاف کی وجہ سے قائم ہوئے ہیں احمدی عورتیں سب سے مقدم ہیں۔ہاں اگر غیروں کو لیا جائے ، تو ہم ان کے مقابلے میں ابھی کمزور ہیں۔یعنی عیسائیوں کی عورتوں نے عیسائیت کی خاطر بہت زیادہ قربانی کی ہے۔بے شک ہماری عورتوں نے بھی قربانی کی ہے اور وہ تبلیغ کا کام کرتی ہیں۔مگر قربانی کے لحاظ سے ابھی وہ ان سے کم ہیں مثلاً چین میں ایک دفعہ عیسائیوں کے خلاف بغاوت ہوئی۔وہاں ان دنوں ایک عورت تبلیغ کا کام کر رہی تھی۔چینوں نے حملہ کر کے اس عورت کو مارڈالا اور اس کے گوشت کے کباب کھائے۔جب یہ خبر انگلستان میں پہنچی تو انگلستان میں اعلان کیا گیا کہ چین میں ہماری ایک عورت مبلغ تھی۔چینیوں نے اسے مار دیا ہے اور اس کے گوشت کے کباب بنا کر کھائے ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ اس کی جگہ کام کرنے کے لئے کوئی اور عورت اپنا نام پیش کرے۔شام تک ۲۰ ہزار عورتوں کی طرف سے تار آگئے کہ ہم وہاں جانے کے لئے تیار ہیں، ہمیں وہاں