سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 112

۱۱۲ کہلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور اپنے خاندان کی وجاہت کو قائم کرنا چاہئے۔حالانکہ حضرت خلیفہ اول کو جو عزت اور درجہ ملا ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل ملا ہے۔اب جو چیز آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل ملی تھی وہ ان لوگوں کے نزدیک ان کے خاندان کی جائیداد بن گئی۔یہ وہی فقرہ ہے جو پرانے زمانے میں ان لڑکوں کی والدہ نے مجھے کہا کہ پیغامی میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خلافت تو حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کی تھی۔اگر آپ کی وفات کے بعد آپ کے کسی بیٹے کوخلیفہ بنا لیا جاتا تو ہم اس کی بیعت کر لیتے۔مگر مرزا صاحب کا خلافت سے کیا تعلق تھا کہ آپ کے بیٹے کو خلیفہ بنا لیا گیا۔اُس وقت میری بھی جوانی تھی میں نے انہیں کہا کہ آپ کے لئے راستہ کھلا ہے۔تانگے چلتے ہیں ( اُن دنوں قادیان میں ریل نہیں آتی تھی ) آپ چاہیں تو لاہور چلے جائیں۔میں آپ کو نہیں روکتا۔وہاں جا کر آپ کو پتہ لگ جائے گا کہ وہ آپ کی کیا امداد کرتے ہیں۔وہاں تو مولوی محمد علی صاحب کو بھی خلافت نہیں ملی۔انہیں صرف امارت ملی تھی اور امارت بھی ایسی کہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں انہیں وصیت کرنی پڑی کہ فلاں فلاں شخص اُن کے جنازے پر نہ آئے۔اُن کی اپنی تحریر موجود ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ مولوی صدرالدین صاحب، شیخ عبد الرحمن صاحب مصری اور ڈاکٹر غلام محمد صاحب میرے خلاف پروپیگنڈہ میں اپنی پوری قوت خرچ کر رہے ہیں اور انہوں نے تنکے کو پہاڑ بنا کر جماعت میں فتنہ پیدا کرنا شروع کیا ہوا ہے اور ان لوگوں نے مولوی محمد علی صاحب پر طرح طرح کے الزامات لگائے۔یہاں تک کیا کہ آپ نے احمدیت سے انکار کر دیا ہے اور انجمن کا مال غصب کر لیا ہے۔اب بتاؤ جب وہ شخص جو اس جماعت کا بانی تھا، اسے یہ کہنا پڑا کہ جماعت کے بڑے بڑے آدمی مجھ پر الزام لگاتے ہیں اور مجھے مرتد اور جماعت کا مال غصب کرنے والا قرار دیتے ہیں تو اگر وہاں دودھ پینے والے چھو کرے چلے جاتے تو کیا ملتا؟ زیادہ سے زیادہ یہی ہوسکتا تھا کہ انہیں پانچ پانچ روپے کے وظیفے دے کر کسی سکول میں داخل کر دیا جا تا۔مگر ہم نے تو اس کی تعلیم پر بڑا روپیہ خرچ کیا اور اس قابل بنایا کہ یہ بڑے آدمی کہلا سکیں لیکن انہوں نے یہ کیا کہ جس جماعت نے انہیں پڑھایا تھا اُس کو تباہ کرنے کے لئے حملہ کر دیا۔اس سے بڑھ کر اور کیا قساوت قلبی ہوگی کہ جن غریبوں نے انہیں پیسے دے کر اس مقام پر پہنچایا، یہ لوگ انہی کو تباہ کرنے کی کوشش میں لگ جائیں۔جماعت میں ایسے ایسے غریب ہیں کہ جن کی غربت کا کوئی اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔مگر وہ لوگ چندہ دیتے ہیں۔ایک دفعہ قادیان میں ایک غریب احمدی میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ اُمراء کے ہاں دعوتیں کھاتے ہیں ایک دفعہ آپ