سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 216

۶ جماعت یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ نبی کی جماعت کی اکثریت گمراہ ہو جائے۔جماعت میں نئے لوگوں کے شامل ہونے کا اس ۲۲ آئے گا تو تم ان کو نظر نہیں آؤگے۔جب تک خدا تعالیٰ کے ساتھ ہمارا تعلق رہے گا خدا تعالیٰ کا تعلق بھی ہمارے ساتھ رہے گا۔۱۶۳ ۱۶۳ خدا تعالیٰ کے رستے کا ملنا معمولی بات نہیں ہوتی۔۱۷۲ صورت میں فائدہ ہو سکتا ہے کہ شامل ہونے والوں قومی طور پر اسی وقت خدا تعالیٰ کا جلال ظاہر ہوتا ہے کے اندرایمان اور اخلاص ہو۔زندہ اور کام کرنے والی جماعت ۵۱ Al جب قوم کا ہر فرد اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے قرب کے راستوں میں فتا کر دیتا ہے۔ہماری جماعت کے سپرد یہ کام کیا گیا ہے کہ ہم نے دنیا سب سے پہلا اور مقدم فرض جو ایک مسلمان کا ہے 10+ وہ خدا تعالیٰ کی عبادت ہے۔کی اصلاح کرنی ہے۔جماعت کو خصوصیت سے اپنے فرائض کی ادائیگی کے وہ (خدا تعالیٰ ) انسان کے خیال سے بھی زیادہ لئے محنت کی عادت اختیار کرتی چاہیئے۔ہماری جماعت وہ ہے جو خدا تعالیٰ کے فضل سے مختلف ممالک میں پھیل رہی ہے۔جماعت کے اندر سچائی کو قائم کیا جائے۔جہاد ہر زمانہ کا جہادا لگ ہوتا ہے۔یہ فیصلہ کرنا کہ اس زمانہ میں کس قسم کے جہاد کی ضرورت ہے، خدا کا کام ہے۔۱۷۱ ۱۷۴ ۱۸۴ ۱۲ ۱۲ قریب ہے۔خدام الاحمدیہ خدام الاحمدیہ کا فرض ہے کہ وہ اپنے اعمال سے خدمت احمدیت کو ثابت کر دیں۔۱۷۵ ۱۸۰ ۲۰۲ ۳۰ خدمت خلق کے سلسلہ میں زیادہ وقت صرف کریں۔۱۳۵ خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کے قیام کا اصل مقصد یہ ہے کہ جماعت میں مشقت طلب کاموں کی عادت پیدا ہو۔اس زمانہ میں خدا نے تلوار کا نہیں بلکہ تبلیغ اور تربیت کا خدام الاحمد یہ وہ گلاس ہیں جن میں اسلام کی روح جہا درکھا ہے۔۱۲ ہماری جماعت کے افراد کو شکاری پرندے بننا چاہیئے۔۴۳ خدا تعالیٰ کو قائم رکھا جائے گا۔خدمت خلق ۱۹۲ خدمت خلق کی روح نوجوانوں میں پیدا کریں۔۵۸ خدا تعالیٰ کا کوئی فعل نہ جانتے ہوئے نہیں ہوتا۔۷۴ خدمت خلق کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ وقت خدا تعالیٰ اگر تمہارے ساتھ ہوگا تو دشمن تمہارے گھر پر صرف کریں۔۱۳۵