سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 215

انصار اللہ کی ذمہ داری اور ملک الموت کا زمانہ ۸۹ ۱۰۲ بی نام قرآنی تاریخ میں دو دفعہ آیا ہے۔عبادت میں زیادہ سے زیادہ وقت صرف کریں۔۱۳۵ روپیہ سے بھی دین کی خدمت کریں اور روحانی طور پر بھی دین کی خدمت کریں۔اپنے نمونہ سے اپنے بچوں، اپنے ہمسایہ کے بچوں اور اپنے دوستوں کے بچوں کو زندہ کریں۔۱۳۷ ۱۹۱ انسان کے اندر بزدلی اور نفاق وغیرہ اسی وقت پیدا ہوتے ہیں جب دل میں ایمان بالغیب نہ ہو۔بد دیانتی یہ سخت بد دیانتی ہے کہ انسان جس مذہب میں شامل ہو اس کے متعلق تو ابھی اُسے پوری واقفیت حاصل نہ ہو ۵۵ اور دوسروں کے لٹریچر کو پڑھنے میں مشغول ہو جائے۔۴۰ برکت اگر تم حقیقی انصاراللہ بن جاؤ اور خدا سے تعلق پیدا کرلو برکت اسی کو حاصل ہوتی ہے جو با دلیل مانے۔تو تمہارے اندر خلافت بھی دائمی طور پر رہے گی۔۱۱۵ انفاق فی سبیل اللہ خدا تعالیٰ کی دی ہوئی چیزوں کو خرچ کرنا ایمان ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی جماعت کے تمام افراد کو ایمان بصیرت پر قائم کریں۔۵۷ ۴۳ جس کے اندر ایمان ہوتا ہے وہ کسی سے ڈر نہیں سکتا ا۵ ایمان کی طاقت بڑی زبر دست ہوتی ہے۔جو قوم خدا تعالیٰ کی برکت کے نیچے ہوتی ہے وہ لوگوں کو کھینچے چلی جاتی ہے۔پہرہ ایک قومی فرض ہے۔احمدیوں کی تبلیغ کا رعب ره تبلیغ تبلیغ میں نرمی اور سچائی کا طریق اختیار کرو۔۵۱ اگر ہم تعداد میں ترقی نہ کریں تو بھی دنیا کو کوئی فائدہ نہیں جماعت کے اندر ان امور کو رائج کریں تا کہ ان کا پہنچ سکتا۔ایمان صرف رسمی ایمان نہ رہے حقیقی ایمان ہو جو انہیں ہمارا سب سے اہم فرض یہ ہے کہ اس پیغام کو جو حضرت ۳۹ ۴۴ ۶۱ ۴۴ ۵۹ خدا تعالیٰ کا حقیقی مقرب بنا دے۔ایمان بالغیب ۵۹ مسیح موعود کے ذریعہ نازل ہوا دنیا کے کناروں تک پہنچا ئیں۔نیک انجام پر ایمان لانا بھی ایمان بالغیب میں شامل ہے۔۵۳ تبلیغ اسلام ایک نہایت وسیع اور عالمگیر نیکی ہے۔قربانی کا مادہ بھی ایمان بالغیب ہی انسان کے اندر پیدا کر سکتا ہے۔۵۴ تقوی تقویٰ کے لئے پہلی چیز ایمان کی درستی ہے۔يؤمنون بالغیب کے ایک معنے امن دینا بھی ہیں۔۵۵ تمام نیکیاں تقویٰ سے پیدا ہوتی ہیں۔۲۰۹ ง : ۵۳ ۱۵۶