سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 179
۱۷۹ کروڑ روپیہ سے کم کی نہ ہوں گی بلکہ زیادہ ہی ہوں گی۔اگر سب کے سب احمدی اپنی جائیدادیں وقف کر دیں تو ان پر کوئی بوجھ بھی نہیں پڑے گا اور تبلیغ اسلام کے بہت سے رستے کھل جائیں گے۔مگر اس وقت ہماری حالت وہی ہے جو احد کے شہیدوں کی تھی کہ کپڑے کی کمی کی وجہ سے ان کے سر ڈھانپتے تو پاؤں ننگے ہوتے اور پاؤں ڈھانپتے تو سر ننگے ہو جاتے۔ہمارے پاس کبھی روپیہ ہوتا ہے تو موزوں آدمی نہیں ملتے اور کبھی آدمی ملتے ہیں تو روپیہ نہیں ہوتا۔پس ضرورت ہے کام کرنے والے احمدیوں کی اور روپے کی۔اس میں سب سے زیادہ امدا د انصار دے سکتے ہیں۔اور انہیں ضرور اسے اپنا فرض سمجھنا چاہئے ، ایسے انصار ہیں جو لکھتے ہیں کہ ہم اپنے بچوں کو خدمت دین کے لئے زندگی وقف کرنے کی تحریک کر رہے ہیں جب وہ تیار ہوں گے تو پیش کر دیں گے۔مگر ایسے بھی ہیں جن کے متعلق معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی زندگی وقف کرنے سے روکتے ہیں۔ایسے لوگوں کو دین کی ضرورت کو دیکھنا چاہئے اور دین کے متعلق اپنا فرض ادا کرنا چاہئے۔خاکسار غلام نبی۔(ایڈیٹر الفضل) (خلاصہ خطاب فرموده ۲۲ را کتوبر ۱۹۴۶ء۔بحوالہ الفضل ۲۶/اکتوبر ۱۹۴۶ء)