سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 180

۱۸۰ نماز با جماعت اور محنت کی عادت ڈالنے کے لئے مجالس خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کی ذمہ داری جلسہ سالانہ ۱۹۴۶ء کی تقریر سے اقتباس) سب سے پہلا اور مقدم فرض جو ایک مسلمان کا ہے۔وہ خدا تعالیٰ کی عبادت ہے، قرآن کریم نے عبادت کے لئے ہر جگہ اقامت صلوٰۃ کے الفاظ رکھے ہیں۔جن میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ا قامت صلوۃ کے بغیر درحقیقت کوئی عبادت عبادت نہیں کہلا سکتی۔جب تک نماز با جماعت ادانہ کی جائے ،سوائے اس کے کہ انسان بیمار یا معذور ہو ، اس وقت تک اس کی نماز اللہ تعالیٰ کے حضور قبول نہیں ہوسکتی۔میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت کی اس طرف پوری توجہ نہیں۔پس دوستوں کا فرض ہے کہ وہ اپنا پورا زور اس بات کے لئے صرف کر دیں کہ ہم میں سے ہر شخص نماز با جماعت کا پابند ہو۔میں نے پہلے بھی چند سال ہوئے جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی اور اس پر کچھ عرصہ عمل بھی ہوا۔مگر پھر ستی واقعہ ہوگئی۔میں نے کہا تھا کہ جہاں مسجد میں قریب ہوں۔وہاں مسجدوں میں نماز با جماعت ادا کی جائے اور جہاں مسجد میں نہ ہوں وہاں جماعت کے دوست محلہ میں کسی کے گھر پر جمع ہو کر نماز با جماعت پڑھ لیا کریں اور جہاں اس قسم کا انتظام بھی نہ ہو سکے وہاں گھروں میں نماز با جماعت ادا کی جائے اور مرد اپنے بیوی بچوں کو پیچھے کھڑا کر کے جماعت کرالیا کریں۔آج میں پھر جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔خصوصاً عہدیداروں کو۔انہیں چاہئے کہ وہ ہر ماہ مجھے لکھتے رہا کریں کہ انہوں نے اس بارہ میں