سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 143

۱۴۳ دائمی روحانی زندگی کے لئے خلافت احمدیہ کی اہمیت اختتامی خطاب دوسرا سالانہ اجتماع مجلس انصاراللہ مرکزیہ تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: میں تقریر شروع کرنے سے پہلے انصار اللہ کا عہد دہراتا ہوں سب دوست کھڑے ہو جائیں اور میرے ساتھ ساتھ عہد دہراتے جائیں۔حضور کے اس ارشاد پر سب دوست کھڑے ہو گئے اور حضرت امیر المؤمنین خلیفہ اسی الثانی نے مندرجہ ذیل عہد دہرایا۔يَشْهَدُ اَنْ لا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحَدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَاَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ میں اقرار کرتا ہوں کہ اسلام اور احمدیت کی مضبوطی اور اشاعت اور نظام خلافت کی حفاظت کے لئے انشاء اللہ آخر دم تک جد و جہد کرتا رہوں گا اور اس کے لئے بڑی سے بڑی قربانی پیش کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہوں گا نیز میں اپنی اولا د کو بھی ہمیشہ خلافت سے وابستہ رہنے کی تلقین کرتا رہوں گا اس کے بعد حضور نے فرمایا: کل کی تقریر کے بعد کھانے میں کچھ بد پرہیزی ہو گئی۔جس کی وجہ سے اسہال آنے شروع ہو گئے اور پھر رات بھر اسہال آتے رہے۔جسکی وجہ سے میں اس وقت بہت زیادہ کمزوری محسوس کر رہا ہوں لیکن چونکہ احباب باہر سے تشریف لائے ہوئے ہیں اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ یہاں آ کر جو کچھ بھی کہہ سکوں بیان کر دوں۔میں نے کل اپنی تقریر میں کہا تھا کہ آپ کا نام انصار اللہ ہے۔یعنی نہ صرف آپ انصار ہیں بلکہ آپ انصار اللہ ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کے مددگار۔اللہ تعالیٰ کو تو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں لیکن اس کی نسبت کی وضاحت سے یہ بتایا گیا ہے کہ