سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 142

۱۴۲ سے گھر جائیں اور اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لئے دلیرانہ کوشش کریں تا کہ خدا تعالیٰ آپ کی کوششوں میں برکت دے اور سلسلہ کی مالی حالت اور تحریک جدید جو غیر ملکوں میں تبلیغ کو وسیع کرنے کے لئے ہے، اس کی مالی حالتوں میں زیادہ سے زیادہ ترقی ہو۔پھر اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کے لوگوں کو پہلے سے زیادہ قربانی کرنے کی توفیق دے اور پچھلے سال ہمارے ملک میں فصل ربیع کو جو تبا ہی آئی تھی آئندہ اس سے خدا تعالیٰ محفوظ رکھے۔پھر نئی فصلوں میں بھی برکت دے تاکہ زمینداروں کے پچھلے نقصان دور ہو جائیں اور آئندہ کے لئے وہ اور قربانی کرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔ہماری جماعت میں زمیندار ہی زیادہ ہیں اور ان کی مالی کمزوری کا بجٹ پر اثر پڑتا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان پر اپنے فضلوں کی بارش نازل کرے اور اپنی تازہ بشارتوں یعنی الہاموں اور کشوف اور خوابوں کے ذریعہ سے ان کے ایمانوں کو تقویت دے تا کہ وہ اپنی آئندہ نسلوں کے ایمان کو زیادہ مضبوط بناسکیں۔میں نے دیکھا ہے کہ جن لوگوں کو سچی خوا ہیں آتی ہیں، ان کی اولادیں کہتی ہیں کہ ہمارے دادا کو ایسی خواب آئی تھی۔پھر ان کی اولاد کہتی ہے کہ ہمارے پڑدادا کو ایسی خواب آئی تھی۔غرض تین تین پشت تک اس کا اثر جاتا ہے۔اگر ہمارے دوست اس طرف توجہ کریں اور پھر اپنی اولاد کو بھی اس طرف توجہ دلاتے رہیں، تو ان کی کم سے کم تین چار پشتیں محفوظ ہو جاتی ہیں اور پھر اگلی نسل بھی ایسی ہو جائے تو چھ پشتیں محفوظ ہو جاتی ہیں اور پھر اگلی نسل بھی ایسی ہو جائے تو چھ پشتیں محفوظ ہو گئیں۔پھر ایک اور اگلی نسل بھی ایسی ہو جائے تو تو پشتیں محفوظ ہو گئیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان کی رحمت ۱۳۰۰ سال تک تو محفوظ رہی اور تیرہ سو سال میں بڑے بھاری تغیر آجاتے ہیں۔ہم تو چاہتے ہیں کہ قیامت تک ہی ہماری نسل محفوظ ہو جائے۔کیونکہ احمدیت خدا تعالیٰ کا آخری جلال ہے اس آخری جلال کو کم سے کم قیامت تک قائم رہنا چاہئے ، تا کہ ہمیشہ لوگوں میں روحانیت اور ہدایت کی طرف توجہ کے سامان پیدا ہوتے رہیں۔اگر یہ سامان مٹ گئے تو اور کوئی ذریعہ ہدایت کا دنیا میں نہیں رہے گا۔غرض میں نے یہ دعائیں کی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت پر بشارتیں نازل کرتا رہے۔تا اس پر نئے سے نئے فضل نازل ہوتے رہیں اور ان کا ایمان روز بروز تازہ ہوتا چلا جائے۔( خطاب فرموده یکم نومبر ۱۹۵۸ء بحواله الفضل ۶ نومبر ۱۹۵۸ء ص ۱تا۳)