سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 111

جائے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شروع عیسائیت میں حضرت مسیح علیہ السلام کے ایک حواری نے آپ کو تمیں روپے کے بدلہ میں دشمنوں کے ہاتھ بیچ دیا تھا۔لیکن اب عیسائیت میں وہ لوگ پائے جاتے ہیں جو مسیحیت کی اشاعت اور حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا کا بیٹا منوانے کے لئے کروڑوں روپیہ دیتے ہیں۔اسی طرح اس بات میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ نے اپنے زمانہ میں بڑی قربانی کی ہے۔لیکن آپ کی وفات پر ابھی ۴۸ سال ہی ہوئے ہیں کہ جماعت میں سے بعض ڈانواں ڈول ہونے لگے ہیں اور پیغامیوں سے چند روپے لے کر ایمان کو بیچنے لگے ہیں۔حالانکہ ان میں سے بعض پر سلسلہ نے ہزار ہا روپے خرچ کئے ہیں۔میں پچھلے حسابات نکلوار ہا ہوں اور میں نے دفتر والوں سے کہا ہے کہ وہ بتائیں کہ صدرانجمن احمدیہ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کی کتنی خدمت کی ہے اور حضرت خلیفہ اسی اول کے خاندان کی کتنی خدمت کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے فوت ہوئے ۴۸ سال ہو چکے ہیں اور حضرت خلیفہ اسیح اول کی وفات پر ۴۲ سال کا عرصہ گذر چکا ہے۔گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا فاصلہ زیادہ ہے اور پھر آپ کی اولاد بھی زیادہ ہے لیکن اس کے باوجود میں نے حسابات نکلوائے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ صدرا من احمدیہ نے حضرت خلیفہ اسیح اول کے خاندان کی نسبت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان پرکم خرچ کیا ہے لیکن پھر بھی حضرت خلیفہ اسیح اول کی اولاد میں یہ لالچ پیدا ہوئی کہ خلافت کو سنبھالو، یہ ہمارے باپ کا حق تھا جو ہمیں ملنا چاہئے تھا۔چنانچہ سندھ سے ایک آدمی نے مجھے لکھا کہ یہاں میاں عبدالمنان صاحب کے بھانجے مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی کا ایک پروردہ شخص بشیر احد آیا اور اس نے کہا کہ خلافت تو حضرت خلیفتہ اسیح اول کا مال تھا اور ان کی وفات کے بعد ان کی اولاد کو ملنا چاہئے تھا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد نے اسے غصب کر لیا۔اب ہم سب نے مل کر یہ کوشش کرنی ہے کہ اس حق کو دوبارہ حاصل کریں۔پھر میں نے میاں عبدالسلام صاحب کی پہلی بیوی کے سوتیلے بھائی کا ایک خط پڑھا جس میں اس نے اپنے سوتیلے ماموں کولکھا کہ مجھے افسوس ہے کہ مشرقی بنگال کی جماعت نے ایک ریز ولیشن پاس کر کے اس فتنہ سے نفرت کا اظہار کیا ہے۔ہمیں تو اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے تھا۔ہمارے لئے تو موقع تھا کہ ہم کوشش کر کے اپنے خاندان کی وجاہت کو دوبارہ قائم کرتے۔یہ ویسی ہی نا معقول حرکت ہے جیسی حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی وفات پر لاہور کے بعض مخالفین نے کی تھی۔انہوں نے آپ کے نقلی جنازے نکالے اور آپ کی وفات پر خوشی کے شادیانے بجائے۔وہ تو دشمن تھے۔لیکن یہ لوگ احمدی