سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 110
11+ ہمارے دل میں حضرت خلیفتہ المسیح اول کی بڑی قدر اور عظمت ہے۔لیکن آپ کی اولا د نے جو نمونہ دکھایا وہ تمہارے سامنے ہے۔اس کے مقابلہ میں تم حضرت مسیح علیہ السلام کے ماننے والوں کو دیکھو کہ وہ آج تک آپ کی خلافت کو سنبھالے چلے آتے ہیں۔ہم تو اس مسیح کے صحابہ اور انصار ہیں جس کو مسیح نا صرٹی پر فضلیت دی گئی ہے۔مگر ہم جو افضل باپ کے روحانی بیٹے ہیں۔ہم میں سے بعض لوگ چند روپوں کے لالچ میں آگئے۔شاید اس طرح حضرت مسیح علیہ السلام سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ مماثلت بھی پوری ہونی تھی کہ جیسے آپ کے ایک حواری یہودا اسکر یوطی نے رومیوں سے تمیں روپے لے کر آپ کو بیچ دیا تھا اور اس طرح اس مسیح کی جماعت میں بھی بعض ایسے لوگ پیدا ہونے تھے جنہوں نے پیغامیوں سے مدد لے کر جماعت میں فتنہ کھڑا کرنا تھا۔لیکن ہمیں عیسائیوں کے صرف عیب ہی نہیں دیکھنے چاہئیں۔بلکہ ان کی خوبیاں بھی دیکھنی چاہئیں۔جہاں ان میں ہمیں یہ عیب نظر آتا ہے کہ ان میں سے ایک نے تمیں روپے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام کو بیچ دیا۔وہاں ان میں یہ خوبی بھی پائی جاتی ہے۔کہ آج تک جب کہ حضرت مسیح علیہ السلام پر دو ہزار سال کے قریب عرصہ گذر چکا ہے، وہ آپ کی خلافت کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔چنانچہ آج جب میں نے اس بات پر غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ اس چیز کا وعدہ بھی حواریوں نے کیا تھا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود السلام نے جب کہا۔مَنْ أَنْصَارِى إِلَى الله کہ خدا تعالیٰ کے رستہ میں میری کون مدد کریگا تو حواریوں نے کہا نَحْنُ أَنْصَارُ اللہ ہم خدا تعالیٰ کے رستہ میں آپ کی مدد کریں گے۔انہوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا ہے اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ قائم رہنے والا ہے۔پس اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم وہ انصار ہیں جن کو خدا تعالیٰ کی طرف نسبت دی گئی ہے۔اس لئے جب تک خدا تعالیٰ زندہ ہے۔اس وقت تک ہم بھی اس کی مدد کرتے رہیں گے۔چنانچہ دیکھ لو۔حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات پر تقریباً دو ہزار سال کا عرصہ گذر چکا ہے۔لیکن عیسائی لوگ برابر عیسائیت کی تبلیغ کرتے چلے جارہے ہیں اور اب تک ان میں خلافت قائم چلی آتی ہے۔اب بھی ہماری زیادہ تر ٹکر عیسائیوں سے ہورہی ہے۔جو مسیح علیہ السلام کے متبع اور ان کے ماننے والے ہیں اور جن کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال رکھتے ہوئے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کے سارے نبی اس فتنہ کی خبر دیتے چلے آئے ہیں۔غرض وہ مسیح ناصری جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے ان پر فضلیت عطا فرمائی ہے۔ان کے انصار نے اتنا جذ بہ اخلاص دکھایا کہ انہوں نے دو ہزار سال تک آپ کی خلافت کو مٹنے نہیں دیا کیونکہ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ اگر مسیح علیہ السلام کی خلافت مئی۔تو مسیح علیہ السلام کا خود اپنا نام بھی دنیا سے مٹ