سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 109
۱۰۹ کی حفاظت کریں گے۔مدینہ سے باہر نکل کر ہم دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔لیکن اس وقت آپ مدینہ سے باہر تشریف لے آئے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ہاں یہ درست ہے۔اس نے کہایا رسول اللہ جس وقت وہ معاہدہ ہوا تھا۔اس وقت تک ہم پر آپ کی حقیقت پورے طور پر روشن نہیں ہوئی تھی۔لیکن اب ہم پر آپ کا مرتبہ اور آپ کی شان پورے طور پر ظاہر ہو چکی ہے۔اس لئے یا رسول اللہ اب اس معاہدہ کا کوئی سوال ہی نہیں۔ہم موسی" کے ساتھیوں کی طرح آپ کو یہ نہیں کہیں گے کہ فَاذْهَبُ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلاَ إِنَّا هُنَا قَاعِدُونَ (سورة المائدة آیت ۲۵) کہ تو اور تیرا رب جاؤ اور دشمن سے جنگ کرتے پھرو۔ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔بلکہ ہم آپ کے دائیں بھی لڑئیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور یا رسول اللہ دشمن جو آپ کو نقصان پہنچانے کے لئے آیا ہے۔وہ آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گذرے پھر اس نے کہا یا رسول اللہ جنگ تو ایک معمولی بات ہے۔یہاں سے تھوڑے فاصلہ پر سمندر ہے۔(بدر سے چند منزلوں کے فاصلہ پر سمندر تھا اور عرب تیر نا نہیں جانتے تھے۔اس لئے پانی سے بہت ڈرتے تھے ) آپ ہمیں سمندر میں اپنے گھوڑے ڈال دینے کا حکم دیجئے۔ہم بلا چوں و چرا اس میں اپنے گھوڑے ڈال دیں گے۔یہ وہ فدائیت اور اخلاص کا نمونہ تھا جس کی مثال کسی سابق نبی کے ماننے والوں میں نہیں ملتی۔اس مشورہ کے بعد آپ نے دشمن سے لڑائی کرنے کا حکم دیا اور اللہ تعالیٰ نے اس میں آپ کو نمایاں فتح عطا فرمائی۔حضرت مسیح ناصری کے انصار کی وہ شان نہیں تھی۔جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انصار کی تھی۔لیکن پھر بھی وہ اس وقت تک آپ کی خلافت کو قائم رکھے ہوئے ہیں اور یہ ان کی ایک بہت بڑی خوبی ہے۔مگر تم میں سے بعض لوگ پیغامیوں کی مدد کے لالچ میں آگئے اور انہوں نے خلافت کو مٹانے کی کوششیں شروع کر دیں اور زیادہ تر افسوس یہ ہے کہ ان لوگوں میں اس عظیم الشان باپ کی اولاد بھی شامل ہے۔جس کو ہم بڑی قدر اور عظمت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔حضرت خلیفہ اسی اول کی وفات پر ۴۲ سال کا عرصہ کا گذر چکا ہے۔مگر میں ہر قربانی کے موقع پر آپ کی طرف سے قربانی کرتا ہوں۔تحریک جدید ۱۹۳۴ ء سے شروع ہے اور اب ۱۹۵۶ء ہے گویا اس پر ۲۲ سال کا عرصہ گذر گیا ہے۔شاید حضرت خلیفہ اسح اول کی اولاد خود بھی اس میں حصہ نہ لیتی ہو۔لیکن میں ہر سال آپ کی طرف سے اس میں چندہ دیتا ہوں۔تا کہ آپ کی روح کو بھی ثواب پہنچے۔پھر جب میں حج پر گیا۔تو اس وقت بھی میں نے آپ کی طرف سے قربانی کی تھی اور اب تک عید کے موقع پر آپ کی طرف سے قربانی کرتا چلا آیا ہوں۔غرض