سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 108

۱۰۸ تم کو چھوڑ رہا ہوں۔میں آپ سب کو اس کی حفاظت کی نصیحت کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اگر آپ سب کو اس کی حفاظت کے سلسلہ میں اپنی جانیں بھی دینی پڑیں تو آپ اس سے دریغ نہیں کریں گے اور میری اس آخری وصیت کو یا درکھیں گے۔مجھے یقین ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ کے اندر ایمان موجود ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ سب کو محبت ہے۔اس لئے تم ضرور آپ کے وجود کی حفاظت کے لئے ہر ممکن قربانی کرو گے اور اس کے لئے اپنی جانوں کی پرواہ نہیں کرو گے۔اب دیکھو ایک شخص مر رہا ہے۔اسے اپنی زندگی کے متعلق یقین نہیں۔وہ مرتے وقت اپنے بیوی بچوں کو سلام نہیں بھیجتا۔انہیں کوئی نصیحت نہیں کرتا۔بلکہ وہ اگر کوئی پیغام بھیجتا ہے تو یہی کہ اے میری قوم کے لوگو! تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت میں کوتا ہی نہ کرنا۔ہم جب تک زندہ رہے۔اس کے رستہ میں اپنی جانوں کی قربانی بھی پیش کرنی پڑے۔تو اس سے دریغ نہ کریں۔میری تم سے یہی آخری خواہش ہے اور مرتے وقت میں تمہیں اس کی نصیحت کرتا ہوں۔یہ تھا وہ عشق و محبت جو صحابہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا پھر جب آپ کی جنگ بدر کی جنگ کے لئے مدینہ سے صحابہ ضمیت باہر نکلے۔تو آپ نے نہ چاہا کہ کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف جنگ پر مجبور کیا جائے۔چنانچہ آپ نے اپنے ساتھیوں کے سامنے یہ سوال پیش کیا۔کہ وہ اس بارہ میں آپ کو مشورہ دیں کہ فوج کا مقابلہ کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ایک کے بعد دوسرا مہاجر کھڑا ہوا اور اس نے کہا یا رسول اللہ اگر دشمن ہمارے گھروں پر چڑھ آیا ہے تو ہم اس سے ڈرتے نہیں۔ہم اس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔آپ ہر ایک کا جواب سن کر یہی فرماتے چلے جاتے کہ مجھے اور مشورہ دو۔مجھے اور مشورہ دو۔مدینہ کے لوگ اس وقت تک خاموش تھے۔اس لئے کہ حملہ آور فوج مہاجرین کی رشتہ دار تھی وہ ڈرتے تھے کہ ایسا نہ ہو کہ ان کی بات سے مہاجرین کا دل دُکھے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بار بار فرمایا کہ مجھے مشورہ دو۔تو ایک انصاری سردار کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ مشورہ تو آپ کومل رہا ہے۔مگر پھر بھی جو آپ بار بار مشورہ طلب فرما رہے ہیں تو شاید آپ کی مراد ہم انصار سے ہے۔آپ نے فرمایا، ہاں۔اس سردار نے جواب میں کہا کہ یا رسول اللہ شاید آپ اس لئے ہمارا مشورہ طلب فرمارہے ہیں۔کہ آپ کے مدینہ تشریف لانے سے پہلے ہمارے اور آپ کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا اور وہ یہ تھا کہ اگر مدینہ میں آپ پر اور مہاجرین پر کسی نے حملہ کیا تو ہم آپ