سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 4
میں ایک رسول بھیج جو انہیں تیری آیات پڑھ پڑھ کر سنائے انہیں کتاب اور حکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے۔اس سوال کا جواب ہمیں قرآن کریم سے ہی معلوم ہوتا ہے چنانچہ سورہ جمعہ میں اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ۔هُوَ الَّذِى بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّنَ رَسُولاً مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ (سورۃ جمعہ آیات 2 - 3) یہ وہی الفاظ ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کرتے ہوئے استعمال کئے تھے فرماتا ہے وہ خدا بڑی بلندشان والا ہے۔جس نے ابراھیم علیہ السلام کی دعا کو سن کر امن میں اپنا رسول مبعوث کیا يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وہ ان کو اس کی آیات پڑھ پڑھ کر سناتا ہے۔وَيُزَعِيْهُمُ اور ان کو پاک کرتا وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ اور ان کو آسمانی کتاب سمجھا تا اور شرائع کی بار یک دربار یک حکمتیں بتا تا ہے۔یہ بتا کر کہ حضرت ابراھیم علیہ السلام کی دعا قبول ہوگئی اور اب اس اعتراض کا ازالہ کرتا ہے۔جو بعض طبائع میں پیدا ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعا نا مکمل ہے۔کیونکہ جہاں اپنی اولاد کے متعلق عام دعا انہوں نے یہ کی تھی کہ ان میں متواتر رسول آتے رہیں وہاں مکہ والوں کے متعلق انہوں نے صرف یہ دعا کی کہ ان میں سے ایک رسول مبعوث ہو۔چنانچہ فرماتا ہے وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (سورہ جمعہ آیت 4) ان دعاؤں میں بے شک ایک فرق ہے۔مگر اس کی وجہ یہ ہے کہ ابراہیمی اولاد کے بعض حصوں میں ایسے نبی آنے تھے جنہوں نے اپنی ذات میں مستقل ہونا تھا۔مگر ابراھیم نے مکہ والوں کے متعلق جو دعا کی وہ صرف ایسے رسول کے متعلق تھی۔جس نے ایک ہی رہنا تھا اور جس کے متعلق یہ مقدر تھا که آئندہ دنیا میں ہمیشہ اس کے اظلال و ابتاع پیدا ہوتے رہیں۔پس چونکہ یہ خدا کا فیصلہ تھا کہ اس رسول نے بار بار متبع اطلال کے ذریعہ دنیا میں ظاہر ہوتے رہنا تھا اس لئے بالفاظ دیگر اماموں کا سلسلہ بھی ہمیشہ قائم رہنا تھا اور رسول بھی ایک ہی رہتا تھا کیونکہ ان کی امامت اور رسالت جدا گانہ نہیں ہوئی تھی بلکہ