سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 79
۷۹ غرض دونوں ایک دوسرے کے نگران ہوتے ہیں۔حکام عوام کے نگران ہوتے ہیں اور عوام حکام کے نگران ہوتے ہیں۔اگر کبھی حاکموں میں سے کوئی حاکم غافل ہو جائے یا سُست ہو جائے یا ایسا حاکم مقرر ہو جو حکومت کے لحاظ سے اس کا اہل نہ ہو، تو عوام میں شور پڑ جاتا ہے کہ ہماری حکومت یوں کیوں کر رہی ہے، یوں کیوں نہیں کرتی اور جب عوام سُست ہو جائیں تو حکام ان کی ستی کو دور کرنے کے لئے موجود ہوتے ہیں۔یہ نظارہ بھی وہی ہوتا ہے جسے روحانی دنیا میں تقدیر اور تدبیر کا نام دیا جاتا ہے۔جیسے کبھی تدبیر کازور ہوتا ہے اور کبھی تقدیر کا زور ہوتا ہے۔اسی طرح چونکہ ایسی حکومت در حقیقت عوام کی حکومت ہوتی ہے، اس لئے جب حکومت میں کوئی نقص پیدا ہو جاتا ہے تو عوام الناس میں جوش پیدا ہو جاتا ہے اور جب عوام میں کوئی نقص پیدا ہوتو حکومت اس نقص کے ازالہ کے لئے مستعد ہو جاتی ہے۔اس طرح وہ دونوں ایک دوسرے کو جگانے اور بیدار رکھنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں اور در حقیقت یہ تقدیر اور تدبیر کا ہی ایک مظاہرہ ہے جو دنیا میں اس رنگ میں دکھائی دیتا ہے۔اسی نکتہ کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے جماعت میں خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کے قیام کی تحریک ،، کی تھی۔یوں تو جماعت کی اصلاح خلیفہ کے ذمہ ہے اور یا پھر خلیفہ کے نائب جو ناظر وغیرہ ہیں ان کے ذمہ ہے۔مگر دنیا میں یہ ہمیں قانون قدرت دکھائی دیتا ہے کہ کبھی ایک پر نیند آجاتی ہے اور کبھی دوسرے پر نیند آجاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک الہام بھی اس حقیقت پر روشنی ڈالتا ہے۔آپ کا الہام ہے ” أفطِرُ وَاصْوْمُ “ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں کبھی افطار کرتا ہوں اور کبھی روزہ رکھتا ہوں۔اب واقعہ یہ ہے کہ خدا نہ روزہ رکھتا ہے نہ افطار کرتا ہے۔مگر الہام یہ بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ روزہ بھی رکھتا ہے اور افطار بھی کرتا ہے۔پس در حقیقت اس الہام کا بھی وہی مفہوم ہے، جس کی طرف میں نے ابھی اشارہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کبھی ایسا زمانہ آتا ہے کہ میری صفات جوش میں آجاتی ہیں اور میں خود لوگوں کے دلوں میں اپنی محبت پیدا کرنے کیلئے تقدیر کو عمل میں لاتا ہوں اور کبھی ایسا زمانہ آتا ہے کہ میں اپنی ان صفات کو ٹھہرا دیتا ہوں اور بندہ جوش میں آکر میری ملاقات کے لئے تدابیر اور جد و جہد میں مشغول ہو جاتا ہے اسی طرح انسانی حکومتوں میں بھی کبھی ایک طرف غفلت طاری ہو جاتی ہے اور کبھی دوسری طرف غفلت طاری ہو جاتی ہے۔تب جو جو حصہ بیدار ہوتا ہے وہ غافل حصہ کو چست اور ہوشیار کرنے میں مشغول ہو جاتا ہے اور جب کسی دوسرے وقت وہ چست اور ہوشیار حصہ غافل ہو جاتا ہے تو جو حصہ بیدار ہو چکا ہوتا ہے وہ