سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 78
ZA محبت کا جوش پیدا ہوتا ہے اور کبھی بندوں کے دلوں میں خدا کی محبت کا جوش پیدا ہوتا ہے۔کہا جاتا ہے اور خدا کی محبت کو تقدیر بندے کی محبت کومد بیر کہا جاتا ہے۔جس طرح ماں بعض دفعہ محبت سے بے تاب ہو کر بچے کی طرف دوڑتی اور اسے اپنے سینہ سے لگا لیتی ہے۔اسی طرح کی محبت جب خدا تعالیٰ کی طرف سے پیدا ہو تو اسے تقدیر کہا جاتا ہے اور ویسی ہی محبت لوگوں کے دلوں میں خدا تعالیٰ کی پیدا ہو ، جیسے بچہ کے دل میں بعض دفعہ اپنی ماں کی محبت جوش میں آتی ہے تو اسے روحانی دنیا میں تدبیر کا نام دیا جاتا ہے۔یہ سلسلہ چلتا ہے اور چلتا چلا جاتا ہے۔کبھی اس طرف سے اور کبھی اس طرف سے۔کبھی تقدیر کے زور سے اور کبھی تدبیر کے زور سے اور اس طرح بندوں اور خدا کے تعلق میں کمی واقع ہونے میں نہیں آتی۔جب انسان خدا تعالیٰ کو بھول جاتا ہے تو خدا تعالیٰ کی تقدیر جوش میں آجاتی ہے اور جب خدا تعالیٰ اپنی تقدیر کسی مامور اور مرسل کے ذریعہ ایک دفعہ ظاہر کر دیتا ہے تو گو وہ بندوں کو بھولتا نہیں مگر اس کی بعض صفات میں ایک قسم کا سکون واقع ہو جاتا ہے۔اس وقت بندوں کی طرف سے تدبیر شروع ہو جاتی ہے۔یہ قانون دنیوی قانون میں سے ڈیما کرسی سے ملتا ہے۔یعنی حکومت ہوتی تو ویسی ہی ہے جیسے اور حکومتیں۔اس حکومت کے جو ذمہ وار افراد ہوتے ہیں وہ بھی ویسے ہی قانون بناتے ہیں جیسے اور حکومتیں قانون بناتی ہیں۔وہ بھی اپنے قوانین کا ویسی ہی سختی سے نفاذ کرتے ہیں۔جیسے اور افراد حکومت اپنے قوانین کا سختی سے نفاذ کرتے ہیں۔غرض ظاہری لحاظ سے قانون کی تشکیل اور اس کے نفاذ کے لحاظ سے اس حکومت کو دوسری حکومتوں سے کوئی امتیاز حاصل نہیں ہوتا۔اگر کوئی امتیاز ہوتا ہے تو یہ کہ عوام یہ نہیں سمجھتے کہ یہ کسی غیر کی حکومت ہے۔بلکہ وہ سمجھتے ہیں یہ ہماری حکومت ہے اور اس کی خرابی ہماری خرابی ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ادھر حاکم دن رات ایسی تدابیر میں مشغول رہتے ہیں جن کے ماتحت ان کی قوم کے افراد کی ترقی ہو۔انہیں عزت حاصل ہو، ان کے رتبہ اور ان کی وجاہت میں زیادتی ہو اور دوسری طرف عوام اس بات کے نگران ہوتے ہیں کہ کہیں ان کے حاکم سُست نہ ہو جائیں اور اس طرح ان کی حکومت ان کے لئے فائدہ رساں ہونے کی بجائے مہلک اور ضرر رساں نہ ہو جائے۔