سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 77
22 میں آتا اور تقدیر کے ماتحت لوگوں کو کھینچ کر خدا تعالیٰ کے پاس لے جاتا ہے۔تب ایک نیا تعلق خدا اور اس کے بندوں کے درمیان پیدا ہو جاتا ہے۔اس تغیر کے ماتحت پھر دنیا اٹھتی ہے اور تدبیر میں منہمک ہو جاتی ہے۔مگر میری مراد اس تدبیر سے دنیوی کام نہیں۔نہ تجارت زراعت یا صنعت و حرفت کے کام مراد ہیں بلکہ میری مرادند بیر سے یہ ہے کہ نبی کی بعثت کے بعد لوگ روحانی تدابیر کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور پھر ہمیں یہ نظارہ نظر آنے لگتا ہے کہ لوگ قوم کی اصلاح میں لگے ہوئے ہیں۔وہ ان کے افکار کو درست کرتے ہیں، وہ ان کے اعمال کو درست کرتے ہیں، وہ ان کے اخلاق کو درست کرتے ہیں، وہ انہیں ضبط نفس کی تعلیم دیتے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ کے نشانات اور اس سے تعلق رکھنے کی برکات ظاہر کرتے ہیں، ان کے اندر دین کی محبت پیدا کرتے ہیں، اور انہیں اخلاص اور ایمان کا ایک نمونہ بناتے ہیں۔اسی طرح ہمیں یہ نظارہ بھی دکھائی دیتا ہے کہ لوگ نمازوں میں مشغول ہوتے ہیں، روزے رکھتے ہیں ، حج کرتے ہیں ، زکوۃ دیتے ہیں، چندوں کی ادائیگی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ان کا ہر قدم پہلے قدم سے آگے ہو۔ان کا ہر دن پچھلے دن سے زیادہ ترقی کے میدان میں بڑھانے والا ہو۔غرض پھر تد بیر کا زور شروع ہو جاتا ہے اور اس تدبیر کے نتیجہ میں دنیا میں ایک عام بیداری پیدا ہو جاتی ہے۔گویا پہلے تقدیر بیداری پیدا کرتی ہے اور پھر تد بیر بیداری پیدا کرتی ہے۔پہلے تقدیر جوش میں آکر بندوں اور خدا میں اتصال پیدا کرتی ہے اور پھر تدبیر جوش میں آکر خالق اور مخلوق کو ملا دیتی ہے۔اس تدبیر کے زمانہ میں بھی گوخدا کے فضل نازل ہوتے ہیں۔مگر اس دور میں فضل کی بنیا د نیچے سے شروع ہوتی ہے اور اس طرح خدا اور بندوں کے تعلق کی مثال وہی ہو جاتی ہے جو ماں اور بچے کے تعلق کی ہوتی ہے۔کسی وقت بچہ ماں کو یاد کرتا ہے اور کسی وقت ماں بچہ کو یاد کرتی ہے۔کبھی بچہ ماں کو آکر چھٹ جاتا ہے۔وہ کھیل رہا ہوتا ہے کہ کھیلتے کھیلتے ایک دم اس کے دل میں ماں کی محبت پیدا ہوتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ مجھے اپنی ماں سے ملے دیر ہوگئی۔چنانچہ وہ کھیلتا کھیلتا دوڑتے ہوئے آتا ہے اور اپنی ماں کے گلے میں محبت سے ہاتھ ڈال دیتا ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بچے کو احساس نہیں ہوتا مگر ماں کو احساس ہو جاتا ہے۔وہ کام کرتی کرتی یک دم اسے چھوڑ دیتی ہے اور ادھر ادھر تلاش کرتی پھرتی ہے کہ اس کا بچہ کہاں گیا اور جب وہ ملتا ہے تو اسے اپنی چھاتی سے چمٹالیتی ہے۔یہی مثال عالم روحانی کی ہے۔کبھی خدا کے دل میں بندوں کی