سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 76

۷۶ کر دیا کہ ہمیں اسلام کی خدمت کا کس قدر احساس ہے ، ہم نے اپنے دن رات کی محنت سے کمایا ہوا روپیہ انجمن کے سپرد کر دیا۔حالانکہ مقصد یہ ہوتا ہے کہ پبلک میں ان کی عزت بڑھے اور لوگ یہ کہنا شروع کر دیں فلاں میر صاحب یا فلاں مرزا صاحب یا فلاں چود ہری صاحب نے دو ہزار رو پیدا انجمن اسلامیہ کو دے دیا۔حالانکہ وہ روپیہ اس میر یا مرز ایا چوہدری کا تھا ہی نہیں۔وہ تو بہر حال اس نے دینا ہی تھا اور دینا بھی غرباء کو تھا۔مگر بجائے اس کے کہ اسے اس مقام پر خرچ کیا جاتا جس مقام پر خرچ کرنے کا اسلام نے حکم دیا ہے، وہ اس روپیہ کو دنیوی وجاہت اور اعزاز حاصل کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں اور یا پھر دیتے ہی نہیں اور یا اس قسم کی ٹھگیاں کرتے ہیں جو نہایت ہی قابل شرم ہوتی ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے۔کہ ایک سیٹھ صاحب تھے۔میں ان کے متعلق یہ سمجھا کرتا تھا کہ وہ زکوۃ دیا کرتے ہیں۔مگر مجھے لوگوں نے بتایا کہ وہ زکوۃ کہاں دیتا ہے وہ تو دھوکا بازی کرتا ہے۔چنانچہ انہوں نے بتایا کہ جب زکوۃ دینے کا وقت آتا ہے تو وہ زکوۃ کا تمام روپیہ ایک گھڑے میں بھر دیتا ہے۔مثلاً دو ہزار یا تین ہزار یا چار ہزار زکوۃ کا روپیہ ہوا تو وہ سب روپیہ ایک گھڑے میں بھر دیا اور اس کے اوپر دانے ڈال دئے۔اس کے بعد وہ کسی غریب طالب علم کو بلاتا ، اسے نہایت اچھا کھانا کھلاتا ، اور جب وہ کھانا کھا کر فارغ ہو جاتا تو اسے کہتا کہ اس گھڑے میں جو کچھ ہے یہ میں نے آپ کی ملکیت میں دے دیا ہے۔پھر تھوڑی دیر کے بعد کہتا۔آپ یہ گھڑا اٹھا کر کہاں لے جائیں گے اسے واپس میرے پاس ہی فروخت کر دیجئے۔فرمائیے آپ اس کی کیا قیمت لیں گے۔طالب علم بھی اپنے ذہن میں اندازہ لگا لیتا کہ کتنی قیمت مانگوں گا تو مل جائے گی اور کتنی قیمت مانگوں گا تو مجھے دھکے دے کر باہر نکال یا جائے گا۔اسے علم ہوتا کہ اس گھڑے میں ہزاروں روپے ہیں مگر وہ کیا کرسکتا تھا۔آخر یہی کہتا کہ میں پانچ یا دس روپے میں یہ گھڑا آپ کے پاس فروخت کرتا ہوں۔چنانچہ پانچ دس جتنے روپے وہ مانگتا ، اتنے روپے اسے دے دیتا اور گھڑا اٹھا کر گھر میں رکھ لیتا اور جب کوئی کہتا کہ آپ نے زکوۃ کا مال تو پھر اپنے گھر میں رکھ لیا ہے۔تو وہ کہتا یہ مال تو میں نے خریدا ہے زکوۃ میں نے دے دی تھی۔تو وہ تمام ذرائع جو اللہ تعالیٰ نے قومی پاکیزگی کے لئے یا دل کی پاکیزگی کے لئے یا دماغ کی پاکیزگی کے لئے یا خیالات کی پاکیزگی کے لئے یا افکار کی پاکیزگی کے لئے مقرر کئے ہیں، ان کو لوگ چھوڑ بیٹھتے ہیں اور اپنے نفس کی خرابی اور گندگی کی وجہ سے خدا تعالیٰ سے دور ہو جاتے ہیں۔تب خدا تعالیٰ کی تقدیر جوش میں آتی ہے اور وہ اپنے کسی مامور اور مرسل کو لوگوں کی ہدایت کے لئے مبعوث فرماتا ہے۔وہ مامور اور مرسل دنیا