سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 75
۷۵ رکھنے کے باوجود وہ جھوٹ بول لیتے ہیں، وہ لڑائی جھگڑوں میں حصہ لیتے ہیں، وہ ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں ، وہ فساد کرتے ہیں، وہ غیبت میں حصہ لیتے ہیں اور اس لئے نہیں کہا جاسکتا کہ ان کا روزہ ، روزہ ہے۔وہ با وجود روزہ رکھنے کے خدا تعالیٰ کے حضور روزہ دار نہیں ہوتے اور یا پھر لوگ روزہ رکھتے ہی نہیں۔زکوۃ انسان کے نفس کی پاکیزگی اور اس کے قلب کے تزکیہ کے لئے ایک نہایت ہی ضروری چیز ہے۔مگر ایک زمانہ ایسا آجاتا ہے جب کہ لوگ یا تو زکوۃ دیتے ہی نہیں اور اگر دیتے ہیں تو اسے اپنے دنیوی مقاصد کو پورا کرنے کا ذریعہ بنالیتے ہیں اور یہ دونوں صورتیں ایسی ہیں جو ان کو نیکی سے محروم رکھتی ہیں۔یعنی یا تو وہ ایسا کرتے ہیں کہ اپنے مال کو زکوۃ دینے کے بغیر حرام مال بنا لیتے ہیں اور یا اگر دیتے ہیں تو اس زکوۃ کو ایسی طرز پر تقسیم کرتے ہیں جس میں ان کی نفسانی خواہشات کا دخل ہوتا ہے مثلاً کسی سکول کے لئے چندہ کی تحریک ہوئی تو ہزار دو ہزار روپیہ دے دیا۔اس پر لوگ بڑے جوش سے اعلان کرتے ہیں کہ فلاں سکول کے لئے فلاں تاجر صاحب نے دو ہزار روپیہ چندہ دیا۔حالانکہ وہ زکوۃ کا روپیہ ہوتا ہے اور ان کا کوئی حق ہی نہیں ہوتا کہ وہ اسے اپنی ذاتی خواہشات کو پورا کر نیکا ذریعہ بنائیں۔وہ غرباء کا مال ہوتا ہے اور غرباء کی طرف ہی لوٹائے جانے کا اسلام حکم دیتا ہے۔تا کہ مال کو پاکیزگی حاصل ہو اور ان کا نفس تزکیہ حاصل کرے۔مگر بجائے اس کے کہ وہ زکوۃ کو اپنے مال یا اپنے قلب کی پاکیزگی کا ذریعہ بنائیں ، وہ اسے اپنی عزت بڑھانے کا ذریعہ بنالیتے ہیں۔یا زکوۃ کا مال تو الگ کر لیتے ہیں، مگر ان کے دل میں یہ ارادہ مخفی ہوتا ہے کہ کبھی ڈپٹی کمشنر سے ملے اور اس نے چندہ کی تحریک کی تو اس موقعہ پر اس روپیہ میں سے ایک خاص رقم دے دیں گے اور اس طرح عزت اور شہرت میں اضافہ ہوگا۔حالانکہ زکوۃ غرباء کے لئے ہوتی ہے، اس لئے نہیں ہوتی کہ اس روپیہ کو انسان اپنی ذاتی اغراض کے لئے استعمال کرے۔مگر انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ڈپٹی کمشنر تحریک کرتا ہے اور وہ چندہ میں ایک بہت بڑی رقم دینے کے بعد اس سے یہ درخواست کر دیتے ہیں۔کہ حضور ہماری ” خان صاحب یا خان بہادر کے خطاب کے لئے یا فلاں ٹھیکہ کے لئے سفارش کر دی جائے۔ہم نے گورنمنٹ کی اس قدر خدمت سرانجام دی ہے۔حالانکہ وہ روپیہ جس کی بناء پر گورنمنٹ کی خدمت کا انہیں دعویٰ ہوتا ہے ان کا ہوتا ہی نہیں ،غرباء کا روپیہ ہوتا ہے اور یا پھر اس روپیہ کو وہ پبلک میں اپنی عزت بڑھانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔مثلاً کہیں کوئی انجمن اسلامیہ ہوئی اور اس کے پریذیڈنٹ یا سیکرٹری یا مربی بنے کا سوال زیر غور ہوا، زکوۃ کے روپیہ میں سے دو ہزار روپیہ اس انجمن اسلامیہ کو دے دیا اور پھر مونچھوں پر تاؤ دیتے ہوئے کہنا شروع