سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 72

۷۲ جتنا تین چار گاؤں کی پنچائیت کا ہوتا ہے۔نہ محکمہ تبلیغ میں وہ جوش ہے نہ مبلغوں میں اور نہ جماعتوں میں۔ابھی چند لوگوں کو جماعت میں داخل کر کے ہم خوش ہو جاتے ہیں۔میں نے الفضل میں پڑھا کہ پیغامیوں کے ساتھ سارے سال میں صرف دوسو اشخاص شامل ہوئے ہیں اور ہماری جماعت میں دو ہزار۔مگر کیا کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ سال میں دو ہزار کے معنی ہیں ایک صدی میں دولاکھ، ایک سوصدی میں یعنی دس ہزار سال میں دو کروڑ ، اور یہ بھی کوئی تعداد ہے۔ہمارے لئے سال میں دو تین بلکہ چار ہزار احمدی بنانا تو افسوس کی بات ہونی چاہئے۔جب تک جماعت کے ہر فرد کے اندر یہ آگ نہ ہو کہ اس نے ہر ایک اپنے قریب بلکہ بعید کے شخص کو بھی جماعت میں داخل کرنا ہے اور جب تک لوگ افواج در افواج احمدیت میں داخل نہ ہوں، ہماری حیثیت محفوظ نہیں ہوسکتی اور ذمہ داری ختم نہیں ہوسکتی۔پس میں ان دونوں امور کی طرف پھر جماعت کو توجہ دلاتا ہوں۔ہر ضلع میں ہمارے جلسے ہونے چائیں۔متواتر انفرادی تبلیغ بھی نہایت ضروری ہے مگر تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ جلسوں کے بغیر وہ جوش جماعت میں پیدا نہیں ہوتا جو انفرادی تبلیغ کے لئے ضروری ہے۔پس کوشش کی جائے کہ کم سے کم ہر سال ہر تحصیل میں ہمارا جلسہ ضرور ہو۔پھر اس کے ساتھ انفرادی تبلیغ کو بھی منظم کیا جائے۔خصوصیت سے اضلاع گورداسپور،سیالکوٹ اور گجرات میں۔ان تینوں اضلاع کی طرف خصوصیت سے توجہ کی جائے۔گورداسپور کے ضلع میں احمدیت کا مرکز ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قادیان میں پیدا کیا۔گجرات کا ضلع سب سے پہلے احمدیت میں آگے بڑھا۔ایک وقت تھا جب گجرات کے احمدی سب سے زیادہ تھے اور سیالکوٹ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دوسرا وطن ہے۔ان اضلاع کی آبادی کثرت سے اضلاع سرگودھا، منٹگمری، لائل پور اور ملتان کے اضلاع میں جا کر آباد ہوئی ہے۔اس لئے ان اضلاع کی طرف بھی زیادہ توجہ کرنی چاہئے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ سالوں پر سال گذرتے چلے جاتے ہیں اور ان میں نہ کوئی جلسہ ہوتا ہے اور نہ تبلیغ ، جو نہایت افسوسناک بات ہے۔پس چاہئے کہ دوست سستی اور غفلت کو دور کریں۔تین چار ماہ کے اندر اندر ہر تحصیل یا اپنے علاقہ کے مرکز احمدیت میں جلسہ کر کے غور کیا جائے کہ کس طرح اور کن ذرائع سے اس علاقہ میں تبلیغ کو وسیع کیا جاسکتا ہے۔اگر دوست اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں۔تو ایک ہی سال میں ہر جگہ ہیں ہمیں، چالیس لوگ آسانی سے جماعت میں داخل ہو سکتے ہیں اور صرف پنجاب میں ہی چند ماہ میں ہیں، ہمیں ہزار احمدی ہو جاتے ہیں۔گو یہ بھی بہت تھوڑی تعداد ہے۔لیکن اگر یہ سلسلہ شروع ہو جائے تو جوں جوں جماعت