سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 66
۶۶ کیفیت اور کمیت دونوں لحاظ سے جماعت کی ترقی ذیلی تنظیموں کی تحریکات کا مقصد سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: کسی جماعت کی ترقی کے لئے دو قسم کی ترقیات ضروری ہوتی ہیں۔ایک تو اس کی کمیت کی ترقی یعنی ایک سوال اس کی تعداد بڑھانے کا ہوتا ہے۔کیونکہ اگر کسی اچھی سے اچھی قوم کی تعداد نہ بڑھے تو اس کی برکات اور فوائد سے دنیا فائدہ نہیں اٹھا سکتی۔دوسری ترقی کیفیت کی ترقی ہوتی ہے۔تعداد خواہ کتنی زیادہ ہوا گر اس قوم کی حالت اچھی نہ ہو تو اس کا بڑھنا بھی خرابی ہی کا موجب ہوتا ہے دنیا کے لئے آرام اور فائدہ کا موجب نہیں ہو سکتا۔خالی پڑی ہوئی زمینوں میں بعض اوقات آک اگ آتے ہیں اور ان کے بیج پھیلتے چلے جاتے ہیں۔بظاہر وہ ایک کھیتی ہے جو بڑھتی ہے۔مگر اس کا اتنا بھاری نقصان ہوتا ہے کہ وہ ملک جس میں آگ پیدا ہو جائیں بعض اوقات صدیوں تک قحط کا شکار ہو جاتے ہیں۔کیونکہ آگ کو مار دینا اور اس کی جڑوں کو زمین سے نکال دینا آسان کام نہیں ہوتا۔پس بظاہر گو یہ ایک زیادتی ہوتی ہے۔مگر فائدہ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ایک کمی ہے۔انسانی جسم کتنا قیمتی سمجھا جاتا ہے لیکن اگر کسی کے جسم میں پانچ کی بجائے چھ انگلیاں پیدا ہو جائیں تو وہ خوش نہیں ہوتا کہ میری چھ انگلیاں ہیں بلکہ اسے ایک عیب سمجھتا اور اسے چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔جب کسی کے ماتھے پر یا سینے پر یا پیٹ پر یا رانوں پر یا ہاتھ پر رسولی نکل آئے تو وہ اس پر خوش نہیں ہوتا کہ میرے گوشت میں زیادتی ہوگئی۔بلکہ اسے نکلوانے پر سینکڑوں ہزاروں روپیہ خرچ کر دیتا ہے۔کیونکہ یہ زائد گوشت مفید نہیں بلکہ مضر تھا۔اسی طرح جب کسی کی ہڈیوں میں خم پیدا ہو جائے ، وہ بڑھ جائیں اور انسان کبڑا ہو جائے، تو وہ اس پر خوش نہیں ہوتا کہ میرا حجم بڑھ گیا۔بلکہ ہڈیوں کے خم اور ان کی زیادتی کو دور کرنا چاہتا ہے۔تو بڑھنا ہر حالت میں اچھا نہیں ہوتا۔اسی وقت بڑھنا اچھا ہوتا ہے جب بڑھوتی انسان کے اپنے لئے اور دوسروں کے لئے مفید ہورہی ہو۔اگر وہ بڑھوتی اس کے لئے اور اس کے ہم جنسوں کے لئے مفید نہیں تو وہ خود بھی اور اس کے ہم جنس بھی یہی کوشش کریں گے کہ اسے روک دیں۔