سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 62
۶۲ وہ نماز کا تارک ہے اور محلوں اور جگہوں کا تو میں کیا شکوہ کروں ،ہمیں تو دیکھتا ہوں مسجد مبارک جو اپنی برکات کے لحاظ سے مکہ اور مدینہ کی مساجد کے بعد تیسرے درجہ پر ہے،اس کے زیر سایہ جو دوکانیں ہیں، ان میں سے بعض بھی نماز کے اوقات میں کھلی رہتی ہیں۔پس آج سے میں انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کا فرض مقرر کرتا ہوں کہ قادیان میں اس امر کی نگرانی رکھیں کہ نمازوں کے اوقات میں کوئی دوکان کھلی نہ رہے۔میں اس کے بعد ان لوگوں کو مذہبی مجرم سمجھوں گا جو نماز با جماعت ادا نہیں کریں گے اور انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کو قومی مجرم سمجھوں گا کہ انہوں نے نگرانی کا فرض ادا نہیں کیا۔ہم پر اس شخص کی کوئی ذمہ داری نہیں ہو سکتی جو بے نماز ہے اور ایسے شخص کا یہی علاج ہے کہ ہم اس کے احمدیت سے خارج ہونے کا اعلان کر دیں گے۔مگر جو منتظم ہیں وہ بھی مجرم سمجھے جائیں گے اگر انہوں نے لوگوں کو نماز با جماعت کے لئے آمادہ نہ کیا تو وہ صرف یہ کہہ کر ہی بری الذمہ نہیں ہو سکتے کہ ہم نے لوگوں سے کہہ دیا تھا۔اگر لوگ نماز نہ پڑھیں تو ہم کیا کریں۔خدا تعالیٰ نے ان کو طاقت دی ہے اور انہیں ایسے سامان عطا کئے ہیں، جن سے کام لے کر وہ اپنی بات لوگوں سے منوا سکتے ہیں۔پس کوئی وجہ نہیں کہ لوگ ان کی بات نہ مانیں۔وہ انہیں نماز با جماعت کے لئے مجبور کر سکتے ہیں اور اگر وہ مجبور نہیں کر سکتے تو کم از کم ان کے اخراج از جماعت کی رپورٹ کر سکتے اور مجھے ان کے حالات سے اطلاع دے سکتے ہیں۔بہر حال کوئی نہ کوئی طریق ہونا چاہئے جس سے ان لوگوں کا پتہ لگ سکے ، جو بظاہر ہمارے ساتھ ہیں مگر در حقیقت ہمارے ساتھ نہیں۔یہ نہیں ہوسکتا کہ ایسے لوگ ہمارے ساتھ لٹکتے چلے جائیں اور اپنی اصلاح بھی نہ کریں۔اس کے نتیجہ میں اور لوگوں پر بھی بُرا اثر پڑتا ہے اور وہ بھی نمازوں میں سست ہو جاتے ہیں۔میں آج سے خود اپنے طور پر بھی انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کے اس کام کی نگرانی کرونگا۔اس کے ساتھ ہی میں بیرونی جماعتوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ انہیں بھی اپنے بچوں اور نو جوانوں اور عورتوں اور مردوں کو نماز با جماعت کی پابندی کی عادت ڈالنی چاہئے۔اگر اس بات میں وہ کامیاب نہیں ہو سکتے تو وہ ہرگز خدا تعالیٰ کے حضور سرخرو نہیں ہو سکتے۔چاہے وہ کتنے ہی چندے دیں اور چاہے کتنے ہی ریز ولیوشن پاس کر کے بھجوا دیں۔( خطبہ جمعہ فرموده ۵/ جون ۱۹۴۲ء۔بحوالہ الفضل ۷۔جون ۱۹۴۲ء)