سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 58

۵۸ سے یہ نصیحت کرتا ہوں کہ خدمت خلق کی روح نوجوانوں میں پیدا کریں۔شادیوں، بیا ہوں اور دیگر تقریبات میں کام کرو، خواہ وہ کسی مذہب کے لوگوں کی ہوں۔اس کے بعد فرمایا وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ (سورۃ البقرۃ آیت ۵) اس میں ایمان بالقرآن کا حکم ہے۔مگر اس کو صرف ماننا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے ہر حکم کو اپنے اوپر حاکم بنانا ضروری ہے۔اس سلسلہ میں ، میں نے احباب کو یہ نصیحت کی تھی کہ قرآن کریم نے عورتوں کو حصہ دینے کا جو حکم دیا ہے اس پر عمل کریں اور چند سال ہوئے جلسہ سالانہ کے موقعہ پر میں نے احباب سے کہا تھا کہ کھڑے ہو کر اس کا اقرار کریں اور اکثر نے کیا بھی تھا۔مگر میرے پاس شکائتیں پہنچتی رہتی ہیں کہ بعض احمدی نہ صرف یہ کہ خود حصہ نہیں دیتے بلکہ دوسروں سے لڑتے ہیں کہ تم بھی کیوں دیتے ہو۔مسلمانوں نے جب عورتوں سے یہ سلوک شروع کیا تو خدا تعالیٰ نے ان کو عورتیں بنا دیا۔انہیں ماتحت کر دیا اور دوسروں کو ان پر حاکم کر دیا۔انہوں نے عورتوں کو ان کے حق سے محروم کیا تو خدا تعالیٰ نے ان سے حکومت چھین کر انگریزوں کو دے دی۔انہوں نے عورتوں کو نیچے گرایا اور خدا تعالیٰ نے ان کو گرا دیا۔لیکن اگر تم آج عورتوں کو ان کے حقوق دینے لگ جاؤ اور مظلوموں کے حق قائم کرو تو خدا تعالیٰ کے فرشتے آسمان سے اتریں گے اور تمہیں اٹھا کر اوپر لے جائیں گے۔پس عورتوں کے حقوق ان کو ادا کرو اور ان کے حصے ان کو دو۔مگر اس طرح نہیں جس طرح ایک واقعہ میں نے پہلے بھی کئی بار سنایا ہے۔ایک احمدی تھے ان کی دو بیویاں تھیں۔قادیان سے ایک دوست ان کے پاس گئے تو ان کو معلوم ہوا کہ وہ اپنی بیویوں کو مارتے ہیں۔انہوں نے نصیحت کی کہ یہ ٹھیک نہیں۔اس نے کہا کہ میں نے تو اپنا یہ اصول بنا رکھا ہے کہ جب ایک غلطی کرے، تو اسے تو اس کی غلطی کیوجہ سے مارتا ہوں اور دوسری کو ساتھ اس لئے مارتا ہوں کہ وہ اس پر ہنسے نہیں۔جو دوست قادیان سے گئے تھے انہوں نے بہت سمجھایا کہ یہ اسلام کی تعلیم کے خلاف بات ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اسے سخت نا پسند فرماتے ہیں۔اس نے سن کر کہا اچھا پھر تو بہت بڑی غلطی ہوئی اب کیا کروں۔کیا معافی مانگوں ؟ انہوں نے کہا ہاں معافی مانگ لو۔وہ گھر پہنچے اور بیویوں کو بلا کر کہا کہ مجھ سے تو بڑی غلطی ہوتی رہی ہے جو میں تم کو مارتا رہا۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہ تو گناہ ہے اور حضرت صاحب اس پر بہت ناراض ہوتے ہیں۔اس لئے مجھے معافی دے دو۔وہ دل میں خوش ہوئیں کہ آج ہمارے حقوق قائم ہونے لگے ہیں۔بگڑ کر کہنے لگیں کہ تم مارا ہی کیوں کرتے ہو۔اس نے کہا کہ بس غلطی ہو گئی اب معاف کر دو۔وہ کہنے لگیں کہ نہیں ہم تو معاف نہیں کریں گی۔اس پر اس نے کہا کہ سیدھی