سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 57

۵۷ اس پر زور دیا جائے لیکن اگر وہ احمدی اور مسلمان ہے تو پھر اسے سزا دینی چاہئے اور کہہ دینا چاہئے کہ آج سے تم ہمارے گھر میں نہیں رہ سکتے جب تک کہ نماز کے پابند نہ ہو جاؤ۔تیسری چیز وَمِمَّا رَزَقْنهُمْ يُنْفِقُونَ (سوره بقره آیت ۴) یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کیا جائے۔خدا تعالیٰ کی دی ہوئی پہلی چیز جذبات ہیں۔بچہ جب ذرا ہوش سنبھالتا ہے تو محبت اور پیار اور غصہ کو محسوس کرتا ہے۔خوش ہوتا اور ناراض ہوتا ہے۔پھر پیدائش سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ نے انسان کو آنکھیں، ناک، کان اور ہاتھ پاؤں دیئے ہیں۔پھر بڑا ہونے پر علم ملتا ہے، طاقت ملتی ہے۔ان سب میں سے تھوڑا تھوڑا خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کا مطالبہ ہے۔علم، روپیہ، عقل، جذبات اور اپنی طاقتیں خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم ہے۔یہ مطالبہ ایسا وسیع ہے کہ اس کی تفصیل کے لئے کئی گھنٹے درکار ہیں اور اس پر ہزار صفحہ کی کتاب لکھی جاسکتی ہے۔مگر کتنے لوگ ہیں جو اس کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔بہت سے ہیں جو تھوڑا بہت صدقہ دے کر سمجھ لیتے ہیں کہ اس مطالبہ کو پورا کر دیا۔حالانکہ یہ بہت وسیع ہے۔جہاد کا حکم بھی اس کا ایک جزو ہے۔بعض امراء صدقہ دے دیتے ہیں۔کچھ پیسے خرچ کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اس حکم کی تعمیل کر دی۔حالانکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی دی ہوئی بہت سی چیزوں میں سے ایک کو خرچ کر دیا۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سب کچھ جو تمہیں دیا گیا ہے ان سب میں سے کچھ کچھ خرچ کرو۔ہماری تائی صاحبہ تھیں اسی پچاسی سال کی عمر میں سارا سال روٹی کو کٹوانا۔پھر اٹیاں بنانا۔پھر جلا ہوں کو دیکر اس کا کپڑا بنوانا اور پھر رضائیاں اور تو شکیں بنوا کر غریبوں میں تقسیم کرنا ان کا دستور تھا اور ان میں سے بہت سا کام وہ اپنے ہاتھ سے کرتیں۔جب کہا جاتا کہ دوسروں سے کرالیا کریں تو کہتیں اس طرح مزا نہیں آتا۔تو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہر چیز کو خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم ہے۔مگر کتنے لوگ ہیں جو ایسا کرتے ہیں۔بعض لوگ چند پیسے کسی غریب کو دے کر سمجھ لیتے ہیں کہ اس پر عمل ہو گیا۔حالانکہ یہ درست نہیں جو شخص پیسے تو خرچ کرتا ہے مگر اصلاح وارشاد کے کام میں حصہ نہیں لیتا، وہ نہیں کہہ سکتا کہ اس نے اس حکم پر عمل کیا ہے یا جو یہ کام بھی کرتا ہے مگر ہاتھ پاؤں اور اپنی طاقت کو خرچ نہیں کرتا اور بیواؤں اور یتیموں کی خدمت نہیں کرتا۔وہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ اس نے اس پر عمل کیا ہے تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں ساری قوتوں کو صرف کرنے کا حکم ہے۔جذبات کو بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں صرف کرنا ضروری ہے مثلاً غصہ چڑھا تو معاف کر دیا۔اسی کے ماتحت ہاتھ سے کام کرنا اور محنت کرنا بھی ہے اور میں خدام الاحمدیہ کو خصوصیت