سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 56
۵۶ نماز پوری شرائط کے ساتھ ادا کرنا ہے۔قرآن کریم نے يُؤَدُّونَ الصَّلوةَ کہیں نہیں فرمایا یا تصلون نہیں کہا۔بلکہ جب بھی نماز کا حکم دیا ہے يُقِيمُونَ الصَّلوةَ فرمایا ہے اور اقامت کے معنے باجماعت نماز ادا کرنے کے ہیں اور پھر اخلاص کے ساتھ نماز ادا کرنا بھی اس میں شامل ہے۔گویا صرف نماز کا ادا کرنا کافی نہیں، بلکہ نماز باجماعت ادا کرنا ضروری ہے۔اور اس طرح ادا کرنا ضروری ہے کہ اس کے اندر کوئی نقص نہ رہے۔اسلام میں نماز پڑھنے کا حکم نہیں بلکہ قائم کرنے کا حکم ہے۔اس لئے ہر احمدی کا فرض ہے کہ نماز پڑھنے پر خوش نہ ہو بلکہ نماز قائم کرنے پر خوش ہو۔پھر خود ہی نماز قائم کر لیتا کافی نہیں بلکہ دوسروں کو اس پر قائم کرنا چاہئے۔اپنے بیوی بچوں کو بھی اقامت نماز کا عادی بنانا چاہیے۔بعض لوگ خود تو نماز کے پابند ہوتے ہیں مگر بیوی بچوں کے متعلق کوئی پرواہ نہیں کرتے۔حالانکہ اگر دل میں اخلاص ہو تو یہ ہو نہیں سکتا کہ کسی بچے کا یا بیوی کا یا بہن بھائی کا نماز چھوڑنا انسان گوارا کر سکے۔ہماری جماعت میں ایک مخلص دوست تھے جواب فوت ہو چکے ہیں۔ان کے لڑکے نے مجھے لکھا کہ میرے والد میرے نام الفضل جاری نہیں کراتے۔میں نے انہیں لکھا کہ آپ کیوں اس کے نام الفضل جاری نہیں کراتے۔تو انہوں نے جواب دیا کہ میں چاہتا ہوں کہ مذہب کے معاملہ میں اسے آزادی حاصل ہو اور وہ آزادانہ طور پر اس پر غور کر سکے۔میں نے انہیں لکھا کہ الفضل پڑھنے سے تو آپ سمجھتے ہیں اس پر اثر پڑے گا اور مذہبی آزادی نہ رہے گی لیکن کیا اس کا بھی آپ نے کوئی انتظام کر لیا ہے کہ اس کے پروفیسر اس پر اثر نہ ڈالیں۔کتابیں جو وہ پڑھتا ہے وہ اثر نہ ڈالیں۔دوست اثر نہ ڈالیں اور جب یہ سارے کے سارے اثر ڈال رہے ہیں تو کیا آپ چاہتے ہیں کہ اسے زہر تو کھانے دیا جائے اور تریاق سے بچایا جائے۔تو میں بتا رہا تھا کہ اقامت نماز ضروری ہے اور اس میں خود نماز پڑھنا۔دوسروں کو پڑھوانا۔اخلاص اور جوش کے ساتھ پڑھنا۔باوضو ہو کر ٹھہر ٹھہر کر با جماعت اور پوری شرائط کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے۔اس کی طرف ہمارے دوستوں کو خاص طور پر توجہ کرنی چاہئے۔مجھے افسوس ہے کہ کئی لوگوں کے متعلق مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ خود تو نماز پڑھتے ہیں مگر ان کی اولاد نہیں پڑھتی۔اولاد کونماز کا پابند بنانا بھی اشد ضروری ہے اور نہ پڑھنے پر ان کو سزا دینی چاہئے۔ایسی صورت میں بچوں کا خرچ بند کرنے کا حق تو نہیں ، ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ میں خرچ تو دیتار ہوں گا مگر تم میرے سامنے نہ آؤ، جب تک نماز کے پابند نہ ہو۔ہاں اگر کوئی بچہ کہہ دے کہ میں مسلمان نہیں ہوں تو پھر البتہ حق نہیں کہ