سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 54

۵۴ کے نتائج نظر نہ آئیں ، حوصلہ والے ہی لوگ کرتے ہیں۔قربانی کا مادہ بھی ایمان بالغیب ہی انسان کے اندر پیدا کر سکتا ہے۔گویا قرآن کریم نے ابتداء میں ہی ایک بڑی بات اپنے ماننے والوں میں پیدا کر دی۔چنانچہ وہ صحابہ جو بدر اور احد کی لڑائیوں میں لڑے، کیا وہ کسی ایسے نتیجہ کے لئے لڑے تھے جو سامنے نظر آرہا تھا ؟ نہیں بلکہ ان کے دلوں میں ایمان بالغیب تھا۔بدر کی لڑائی کے موقعہ پر ملکہ کے بعض امراء نے صلح کی کوشش کی مگر بعض ایسے لوگوں نے جنہیں نقصان پہنچا ہوا تھا۔شور مچایا دیا کہ ہرگز صلح نہیں ہونی چاہئے۔آخر ایک شخص نے کہا کہ کسی آدمی کو بھیجا جائے جو مسلمانوں کی طاقت کا اندازہ کر کے آئے۔چنانچہ ایک آدمی بھیجا گیا اور اس نے آکر کہا کہ اے میری قوم میرا مشورہ یہی ہے کہ ان لوگوں سے لڑائی نہ کرو۔انہوں نے کہا کہ تم بتاؤ تو سہی کہ ان کی تعداد کتنی ہے، اور سامان وغیرہ کیسا ہے۔اس نے کہا کہ میرا اندازہ ہے کہ مسلمانوں کی تعدادہ ۳۱ اور ۳۳۰ کے درمیان ہے اور کوئی خاص سامان بھی نہیں۔لوگوں نے پوچھا کہ پھر جب یہ حالت ہے تو تم یہ مشورہ کیوں دیتے ہو کہ ان سے لڑائی نہ کی جائے۔جب ان کی تعداد بھی ہم سے بہت کم ہے اور سامان بھی ان کے پاس بہت کم ہے۔اس نے کہا کہ بات یہ ہے کہ میں نے اونٹوں اور گھوڑوں پر آدمی نہیں بلکہ موتیں سوار دیکھیں ہیں۔میں نے جو چہرہ بھی دیکھا، میں نے معلوم کیا کہ وہ تہیہ کئے ہوئے ہے کہ وہ خود بھی مرجائے گا اور تم کو بھی مار دیگا۔چنانچہ اس کا ثبوت اس سے ملتا ہے کہ ابو جہل میدان میں کھڑا تھا اور عکرمہ اور خالد بن ولید جیسے بہادر نوجواں اس کے گرد پہرہ دے رہے تھے۔کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں میں نے اپنے دائیں اور بائیں دیکھا تو دونوں طرف پندرہ پندرہ سال کے بچے کھڑے تھے۔میں نے خیال کیا کہ میں آج کیا جنگ کر سکوں گا۔جب کہ میرے دونوں طرف چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔لیکن ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ ایک لڑکے نے آہستہ سے مجھے کہنی ماری اور پوچھا چا، وہ ابو جہل کون ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھ دیا کرتا ہے۔میں نے خدا سے عہد کیا ہے کہ آج اسے ماروں گا۔ابھی وہ یہ کہہ ہی رہا تھا کہ دوسرے لڑکے نے بھی اسی طرح آہستہ سے کہنی ماری اور مجھ سے یہی سوال کیا۔میں اس بات سے حیران تو ہوا مگر انگلی کے اشارہ سے بتایا کہ ابو جہل وہ ہے جو خود پہنے کھڑا ہے اور ابھی میں نے انگلی کا اشارہ کر کے ہاتھ نیچے ہی کیا تھا کہ وہ دونوں بچے اس طرح پر جا گرے جس طرح چیل اپنے شکار پر جھپٹتی ہے، اور تلوار میں سونت کرایسی بے جگری سے اس پر حملہ آور ہوئے کہ اس کے محافظ سپا ہی ابھی تلوار میں سنبھال بھی نہ سکے تھے کہ انہوں نے ابو جہل کو نیچے گرادیا۔ان میں سے ایک کا بازو کٹ گیا مگر قبل اس کے با قاعدہ جنگ شروع ہو، ابوجہل