سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 53

۵۳ جماعت کا تقویٰ پر قائم ہونا بے حد ضروری ہے۔اس زمانہ میں مومن اگر ترقی کر سکتے ہیں تو قرآن کریم پر چل کر ہی اور اگر یہ غذا ہضم نہ ہو سکے تو پھر کیا فائدہ اور اگر اسے ہضم کرنا چاہتے ہو تو متقی بنو۔ابتدائی تقویٰ جس سے قرآن کریم کی غذا ہضم ہوسکتی ہے وہ کیا ہے وہ ایمان کی درستی ہے۔تقویٰ کے لئے پہلی ضروری چیز ایمان کی درستی ہی ہے۔قرآن کریم نے مومن کی علامت یہ بتائی ہے که يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ۔ہر شخص کے دل میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ میں متقی کیسے بنوں۔پس اس کی پہلی علامت ایمان بالغیب ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ ملائکہ، قیامت اور رسولوں پر ایمان لانا۔پھر اس ایمان کے نیک نتائج پر ایمان لانا بھی ایمان بالغیب ہی ہے۔اللہ تعالے ملائکہ، قیامت اور رسالت نظر نہیں آتی۔اس لئے اس کے دلائل قرآن کریم نے مہیا کئے ہیں اور وہ دلائل ایسے ہیں کہ انسان کے لئے ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا مگر کئی لوگ ہیں جو غور نہیں کرتے۔آج کل ایمان بالغیب پر لوگ تمسخر اڑاتے ہیں۔جو لوگ خدا تعالیٰ کو مانتے ہیں بعض لوگ ان کا تمسخر اڑاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ تم تعلیم یافتہ ہو کر خدا کو مانتے ہو۔پھر قیامت اور مرنے کے بعد اعمال کی جزا سزا پر بھی لوگ تمسخر اڑاتے ہیں۔ملائکہ بھی اللہ تعالیٰ کا پیغام اور دین لانے والے ہیں اور یہ سب ابتدائی صداقتیں ہیں مگر لوگ ان سب باتوں کا تمسخر اڑاتے ہیں۔یہ سارا ایک ہی سلسلہ ہے اور جس نے اس کی ایک کڑی کو بھی چھوڑ دیا۔وہ ایمان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔نیک نتائج پر ایمان لانا بھی ایمان بالغیب میں شامل ہے اور یہی تو کل کا مقام ہے۔ایک شخص اگر دس سیر آٹا کسی غریب کو دیتا ہے اور یہ امید رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا اجر اسے ملے گا۔تو وہ گویا غیب پر ایمان لاتا ہے۔وہ کسی حاضر نتیجہ کے لئے یہ کام نہیں کرتا بلکہ غیب پر ایمان لانے کی وجہ سے ہی ایسا کر سکتا ہے بلکہ جو شخص خدا تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتا۔وہ بھی اگر ایسی کوئی نیکی کرتا ہے۔تو غیب پر ایمان کی وجہ سے ہی کر سکتا ہے۔فرض کرو کوئی شخص قومی نقطہ نگاہ سے کسی غریب کی مدد کرتا ہے۔تو بھی یہی سمجھ کر کرتا ہے کہ اگر کسی وقت مجھ پر یا میرے خاندان پر زوال آیا۔تو اسی طرح دوسرے لوگ میری یا میرے خاندان کی مدد کریں گے۔تو تمام ترقیات غیب پر مبنی ہیں کیونکہ بڑے کاموں کے نتائج فور انہیں نکلتے اور ایسے کام جن