سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 52

۵۲ ہر ایک نیکی کی جڑ اسی وقت آپ کو دوسرا مصرعہ الہام ہوا جو یہ ہے کہ اگر اتقاء ہے جڑ رہی سب کچھ رہا ہے اس الہام میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اگر جماعت تقویٰ پر قائم ہو جائے تو پھر وہ خود ہر چیز کی حفاظت کرے گا۔نہ وہ دشمن سے ذلیل ہوگی ، اور نہ اسے کوئی آسمانی یا زمینی بلائیں تباہ کر سکیں گی۔اگر کوئی قوم تقویٰ پر قائم ہو جائے تو کوئی طاقت اسے مٹا نہیں سکتی۔قرآن کریم کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا الم ذَالِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدىً لِلْمُتَّقِين - ( سورة البقره آیت ۲-۳) لا رَيْبَ فِيهِ تو قرآن کریم کی ذاتی خوبی بتائی اور دوسرں سے تعلق رکھنے والی خوبی یہ بتائی کہ شدی لِلْمُتَّقِينَ۔یعنی یہ کلام متقی پر اثر کرتا ہے۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص تو روٹی کھاتا اور اس سے طاقت حاصل کر کے کھڑا ہوتا ہے اور دوسرے کو دو آدمی پکڑ کر کھڑا کرتے ہیں۔غیر متقی کو جو ہدایت ہوتی ہے وہ تو ایسی ہوتی ہے، جیسے دو آدمی کسی کو کندھوں سے پکڑ کر کھڑا کر دیں۔مگر جو تقی ہے وہ اس سے غذا لیتا اور طاقت حاصل کرتا ہے۔ہم اگر ترقی کر سکتے ہیں تو قرآن کریم کی مدد سے ہی اور قرآن کریم کہتا ہے کہ اس کی غذا متقی کے لئے ہی طاقت اور قوت کا موجب ہوسکتی ہے۔اگر کسی شخص کے معدہ میں کوئی خرابی ہوتو اسے گھی، دودھ ، مرغ ، بادام، پھل اور کتنی اعلیٰ غذا ئیں کیوں نہ کھلائی جائیں اسے کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا بلکہ الٹا اسے ہیضہ ہو جائے گا۔غذا اسی صورت میں فائدہ دے سکتی ہے، جب وہ ہضم ہو۔اگر ہضم نہ ہوتو الٹا نقصان کرتی ہے اور قرآن کریم بتاتا ہے کہ یہ غذا ایسی ہے جو مومن کے معدہ میں ہی ٹھہر سکتی ہے۔پس اگر یہ سچ ہے کہ ہم نے قرآن کریم سے فائدہ اٹھانا ہے اور اس سے فائدہ اٹھائے بغیر ہم کوئی ترقی نہیں کر سکتے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ہے کہ كُلَّ بَرَكَةٍ مِّنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ ( تذکرہ صفحہ 35 جدید ایڈیشن) یعنی تمام برکت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے ہے۔پس بڑا ہی مبارک ہے وہ جس نے سکھایا اور بڑا ہی مبارک ہے وہ جس نے سیکھا۔اس میں محمد سے مراد در اصل قرآن کریم ہی ہے۔کیونکہ آپ ہی قرآن کریم کے الفاظ لائے ہیں۔پس