سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 50

انصار اللہ۔خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماءاللہ کے قیام کے چھا ہم مقاصد ایمان بالغیب۔اقامت صلوۃ۔خدمت خلق۔ایمان بالقرآن۔بزرگان دین کا احترام اور یقین بالاخرة (اقتباس از تقریر جلسه سالانه فرمودہ 27 دسمبر 1941) اب میں احباب کو مجلس انصار اللہ اور مجلس خدام الاحمدیہ کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔جماعت کے احباب یا چالیس سال سے کم عمر کے ہیں، یا چالیس سال سے زیادہ۔چالیس سال سے کم عمر والوں کے لئے مجلس خدام الاحمدیہ اور زیادہ عمر والوں کے لئے مجلس انصاراللہ قائم کی ہے۔یا پھر عورتیں ہیں ، ان کے لئے لجنہ اماءاللہ قائم ہے۔میری غرض ان تحریکات سے یہ ہے کہ جو قوم بھی اصلاح وارشاد کے کام میں پڑتی ہے، اس کے اندر ایک جوش پیدا ہو جاتا ہے کہ اور لوگ ان کے ساتھ شامل ہوں اور یہ خواہش کہ اور لوگ جماعت میں شامل ہو جائیں ، جہاں جماعت کو عزت اور طاقت بخشتی ہے، وہاں بعض اوقات جماعت میں ایسا رخنہ پیدا کرنے کا موجب بھی ہو جایا کرتی ہے جو تباہی کا باعث ہوتا ہے۔جماعت اگر کر وڑ دو کروڑ بھی ہو جائے اور اس میں دس لاکھ منافق ہوں، تو بھی اس میں اتنی طاقت نہیں ہو سکتی جتنی کہ اگر دس ہزار مخلص ہوں تو ہوسکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ چند صحابہ نے جو کام کئے وہ آج چالیس کروڑ مسلمان بھی نہیں کر سکتے۔ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی مردم شماری کرائی ، تو ان کی تعداد سات سو تھی۔صحابہؓ نے خیال کیا کہ شاید آپ نے اس واسطے مردم شماری کرائی ہے کہ آپ کو خیال ہے کہ دشمن ہمیں تباہ نہ کر دے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! اب تو ہم سات سو ہو گئے ہیں کیا اب بھی یہ خیال کیا جاسکتا ہے کہ کوئی ہمیں تباہ کر سکے گا۔یہ کیا شاندار ایمان تھا کہ وہ سات سو ہوتے ہوئے یہ خیال تک بھی نہیں کر سکتے تھے کہ دشمن انہیں تباہ کر سکے گا۔مگر آج صرف ہندوستان میں سات کروڑ مسلمان ہیں مگر حالت یہ ہے کہ جس سے بھی