سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 49
۴۹ کھول کھول کر بیان کرنا چاہئے اور ان کے اعتراض کی کسی شق کو چھپانا نہیں چاہئے۔اس غرض کے لئے میں نے اعلان کیا ہے کہ انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کو ہر سال ایک ہفتہ ایسا منانا چاہیئے جس میں خدا تعالیٰ کی ہستی ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت ، خلافت اور دیگر مسائل اسلامی کے متعلق احمدیت کے عقائد کو دلائل کے ساتھ بیان کیا جائے اور پھر بتایا جائے کہ ان اعتقادات پر مخالفین کی طرف سے یہ یہ اعتراضات کئے جاتے ہیں اور ان اعتراضات کے یہ یہ جوابات ہیں۔اس کے بعد لوگوں کا زبانی امتحان لیا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ انہوں نے ان باتوں کو کہاں تک یا درکھا ہے۔چونکہ صرف ایک ہفتہ میں ان تمام مسائل کے متعلق جماعت کے دوستوں کو پوری واقفیت حاصل نہیں ہو سکتی اس لئے ہر سال یہ طریق جاری رہنا چاہئے اور کبھی کوئی مسائل بیان کر دیے جائیں اور کبھی کوئی اور۔یہاں تک کہ ہماری جماعت کا ہر فردا تنا ہوشیار ہو جائے کہ اگر اسے کسی وقت مخالفین کی لائبریری میں بھی بٹھا دیا جائے تب بھی وہ وہاں سے فاتح ہوکر نکلے۔مفتوح اور مغلوب ہوکر نہ نکلے۔( خطبه جمعه فرموده یکم نومبر ۱۹۴۰ء۔بحوالہ الفضل ۱۷ اگست ۱۹۶۰ء)