سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 48

۴۸ انہیں پڑھ کر سناؤ اور پھر ان کے ہر اعتراض کا انہیں جواب بتاؤ۔مگر بالعموم ایک غلطی یہ کی جاتی ہے کہ اپنے جواب کو تو مضبوط رنگ میں بیان کیا جاتا ہے اور دوسروں کے اعتراض کو بودا کر کے پیش کیا جاتا ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب لوگ اصل اعتراض کو دیکھتے ہیں تو خیال کر لیتے ہیں کہ ہمارے لوگ بھی جھوٹ بولتے ہیں۔یہ طریق بالکل غلط ہے تمہیں چاہئے کہ مخالف کی دلیل کو پوری مضبوطی سے بیان کرو اور اس کا کوئی پہلو بھی ترک نہ کروتا اپنے اور بیگانے یہ نہ کہہ سکیں کہ اعتراض کے ایک حصہ کو تو لے لیا گیا اور دوسرے حصوں کو چھوڑ دیا گیا ہے۔میں ایک دفعہ لاہور گیا اور وہاں مذہب کی ضرورت پر میں نے ایک تقریر کی۔ابتدائی تقریر میں میں نے بیان کیا کہ مذہب پر آج کل کیا کیا حملے کئے جارہے ہیں اور کون کون سے اعتراضات کئے جاتے ہیں جن کی رُو سے یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ دنیا کو مذہب کی ضرورت نہیں۔اس کے بعد میں نے ان تمام اعتراضات کے جواب دیئے۔اسی دن شام کو یا دوسرے دن ایک ایم۔اے کا غیر احمدی سٹوڈنٹ مجھے ملنے کے لئے آیا اور کہنے لگا۔میں نے کل آپ کی تقریر سنی ہے۔آپ نے جو اعتراضات بیان کئے تھے وہ تو اتنے زبر دست تھے کہ میں نے سمجھا کہ جتنے اعتراض مذہب پر کئے جاتے ہیں وہ سب کے سب بیان کر دیے گئے ہیں۔مگر آپ کے بعض جوابات سے میری پوری تشفی نہیں ہوئی۔میں نے اسے کہا کہ اپنی تشفی کو سردست رہنے دو مگر یہ بتاؤ کہ کوئی اعتراض میں نے چھپایا تو نہیں۔کہنے لگا۔ہم نے جس قدر اعتراضات مذہب کے متعلق سنے ہوئے تھے وہ سب کے سب آپ نے بیان کر دئے ہیں۔میں نے کہا تو خیر جواب کسی اور وقت سمجھ آجائیں گے۔تو مخالف کے دلائل کو پورے طور پر کھول کر بیان کرنا ضروری ہوتا ہے۔مثلا کفارے کا مسئلہ ہے اسے جس رنگ میں ہمارے علماء کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے وہ بالکل غلط ہے۔آج کل عیسائی کفارہ کو اس طریق پر پیش نہیں کرتے بلکہ انہوں نے آہستہ آہستہ اسے ایک فلسفیانہ مضمون بنایا ہے۔اسی طرح تناسخ کا مسئلہ بیان کرتے وقت عام طور پرسنی سنائی باتیں بیان کر دی جاتی ہیں حالانکہ جس رنگ میں آج کل تناسخ کا مسئلہ پیش کیا جاتا ہے وہ بالکل اور ہے۔اسی طرح شرک کے مسئلہ کو فلسفیانہ رنگ دے دیا گیا ہے مثلا فلسفی دماغ والے بت پرست آج کل یہ نہیں کہتے کہ ہم بتوں کو سجدہ کرتے ہیں۔بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی طرف اپنی توجہ قائم رکھنے کے لئے بت کی طرف اپنا مونہ کرتے ہیں۔اسی طرح وہ کہتے ہیں یہ بت خدا کی بعض صفات کے قائمقام ہیں۔اب اگر شرک کے مسئلہ کو صرف اس رنگ میں بیان کر دیا جائے کہ بعض لوگ خدا کی بجائے بتوں کی پرستش کرتے ہیں تو اس سے بت پرستوں کی پوری تسلی نہیں ہوسکتی۔پس مخالفین کے اعتراضات کو